ایک شخص نے کچھ رقم کسی کو قرض پر دی ہو، تو بھی اس قرض میں دی ہوئی رقم پر سال بسال زکوۃ فرض ہوتی رہے گی، جبکہ زکوۃ کی دیگر شرائط پائی جائیں۔ یعنی کہ وہ رقم ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت جتنی ہو اور وہ رقم حاجت اصلیہ سے زائد ہو اور قرض سے فارغ ہو اور اس پر سال بھی مکمل ہوا ہو۔
البتہ اس قرض دی ہوئی رقم پر زکات کی ادائیگی اس وقت واجب ہو گی جب نصاب کی مقدار یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کا کم از کم پانچواں حصہ وصول ہو جائے۔ جب ایک نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہو جائے گا تو اس شخص پر اس کی گزشتہ تمام سالوں کی زکوۃ ادا کر دینا واجب ہو گا۔
اگر پورا کا پورا قرض ایک ساتھ وصول ہوجائے، تو تمام سالوں کی پوری زکوۃ ایک ساتھ ادا کرنا واجب ہو گی۔ اس کی وضاحت مثال کے ساتھ
مثال کے طور پر 52.5 ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت 100000 ایک لاکھ روپے ہو، اور اس شخص کی ملکیت میں حاجتِ اصلیہ کے علاوہ 100000 ایک لاکھ روپے نقد موجود ہوں اور اس نے مزید 100000 ایک لاکھ روپے کسی بندے کو قرض دئیے ہوئے ہوں ساتھ میں اس مال پر ایک سال مکمل ہو گیا ہو تو اس پر دیگر شرائط پائی جانے کی صورت میں زکوۃ فرض ہو گی۔
جو رقم قبضے میں ہے اس کی زکوۃ فوراً ادا کی جائے گی یعنی 100000 ایک لاکھ روپے کا چالیسواں حصہ ڈھائی ہزار فوراً ادا کردے۔ بقیہ جب قرض میں دی ہوئی رقم میں سے نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہو تو اس کی زکات ادا کرے۔
جیسا کہ ایک لاکھ روپے نصاب تھا تو 20 ہزار روپے اس کا پانچواں حصہ بنتا ہے تو جب بھی اس کو 20 ہزار وصول ہوں ان کی زکات تمام سالوں کی ادا کرنا ضروری ہو گا۔ اسی طرح اگر اسے سارا قرض ایک ساتھ بھی واپس مل جائے، تو اب بلا تاخیر تمام سالوں کا حساب لگا کر اتنی زکات ادا کرنا ضروری ہو گا۔
آسان مشورہ
قرض کے معاملے میں زکات کے نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہو پھر اس کا حساب لگانا یا پچھلے سالوں کا سارا حساب رکھنا تھوڑا مشکل معاملہ ہے۔ سب سے آسان یہ ہے کہ سال مکمل ہو تو اگر استطاعت ہو تو سارے قرض کی زکات پہلے ہی ادا کر دینی چاہئے قرض ملے یا نہ ملے تاکہ آسانی رہے زیادہ الجھن کا شکار نہ ہو پائیں۔ پانچویں حصے کی آسانی اس کی لئے رہے گی جس کے پاس استطاعت اتنی نہ ہو۔