جب جانور کو قربانی کی نیت سے خرید لیا جائے، تو اُس جانور سے ہر قسم کا انتفاع یعنی نفع حاصل کرنا مکروہ و ممنوع ہو جاتا ہے۔
قربانی کے جانور سے فائدہ اٹھانے کا حکم
کیونکہ وہ جانور اپنے تمام اجزاء کے ساتھ قربت (یعنی نیکی) کے لیے متعین ہوچکا ہے اور یہ قربت اسی وقت حاصل ہوگی جب اللہ تعالیٰ کے نام پر اس جانور کا خون بہایا جائے۔ اس لیے جب تک جانور سے یہ اصل غرض حاصل نہ ہو جائے، تب تک اس سے ہر قسم کا انتفاع مکروہ و ممنوع ہے۔
ذبح سے پہلے انتفاع کی صورتیں اور حکم:
انتفاع حاصل کرنے سے مراد ذبح سے پہلے کسی بھی انداز میں اُس جانور سے فائدہ حاصل کرنا ہے، مثلاً اون اتار کر بیچنا یا خود استعمال کرنا، دودھ دوہنا، سواری کرنا یا کرائے پر دینا وغیرہ۔
- دودھ کا استعمال:
لہٰذا بکری وغیرہ جانور کا دودھ استعمال نہیں کر سکتے، بلکہ اولاً اس کے تھنوں پر ٹھنڈے پانی کا چھڑکاؤ کریں تاکہ تھن خشک ہو جائیں اور اگر اس سے کام نہ چلے اور دودھ دوہنا ہی پڑے، تو دودھ نکال کر اُسے صدقہ کریں۔ نیز اگر اس سے پہلے اس قربانی کے جانور کا دودھ دوہ چکے ہیں، تو اُسے ہی یا اگر اُسے بیچ دیا یا استعمال کر لیا ہے، تو اُس کی قیمت شرعی فقیر پر صدقہ کرنا لازم ہے۔ - سوار ہونا:
قربانی کے جانور پر سوار ہونا بھی منع ہے کہ یہ بھی ایک منفعت ہے۔ اگر کسی نے سواری کر لی اور سواری کرنے کی وجہ سے جانور میں کوئی کمی آ گئی، تو جتنی کمی آئی، اتنی مقدار میں صدقہ کر دے۔ - بچہ کی پیدائش:
اگر قربانی کے لیے جانور خریدا تھا اور قربانی کرنے سے پہلے اس کے بچہ پیدا ہوا تو بچے کو بھی ذبح کر ڈالے اور اگر بچے کو بیچ ڈالا تو اس کی قیمت صدقہ کر دے اور اگر نہ ذبح کیا نہ بیچا اور ایام نحر گزر گئے تو اس کو زندہ صدقہ کر دے۔