ایک شخص نے اپنے گھر وغیرہ کی تعمیر یا کسی بھی دیگر کام کے لئے قرض لیا ہو اور اس قرض لی ہوئی رقم پر ایک سال بھی مکمل ہو گیا ہو۔ تو بھی ایسی صورت میں مقروض یعنی قرض لینے والے پر اس قرض لی ہوئی اماونٹ پر زکات واجب نہیں ہو گی۔کیونکہ زکات واجب ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ مال قرض سے فارغ ہو یعنی اس شخص پر اتنا قرض نہ ہو کہ اگر وہ ادا کیا جائے تو نصاب باقی نہ رہے۔
یہاں اس صورت میں اس کے پاس تو زائد مال کا ہونا درکنار بلکہ جو موجود مال ہے وہ بھی کسی کا قرض لیا ہوا پیسہ ہے لھذا جب زکات کی شرط نہیں پائی جائے گی تو زکات واجب بھی نہیں ہو گی۔ البتہ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ اس بندے کے پاس اس رقم کے علاوہ اتنی رقم نہ ہو کہ قرض ادا کرنے کے بعد نصابِ زکات بن سکے۔
ہاں اگر اتنی رقم اس شخص کے پاس ہو کہ قرض منہا کرنے یعنی ادا کرنے کے بعد بھی اتنی رقم بچ جاتی ہے کہ وہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچ جاتی ہے تو پھر اس پر دیگر شرائطِ زکات کے پائے جانے کے وقت زکات واجب ہو گی۔
مثلاً ایک شخص نے گاڑی قسطوں پر لی ہوئی ہو اور اس کی ایک قسط مثلاً تین لاکھ روپے رہتے ہیں، اور اس کے پاس پانچ لاکھ روپے کل موجود ہیں، تو تین لاکھ روپے منہا کئے جائیں گے باقی دو لاکھ روپے بچیں گے تو ان پر دیگر شرائطِ زکات کے مطابق زکات واجب ہو گی۔
قرض میں دی ہوئی رقم کی زکوٰۃ، قرض لینے والے پر نہیں، بلکہ قرض دینے والے پر لازم ہو گی اور یہ اپنی شرائط کے مطابق ہر سال لازم ہوتی رہے گی، تو جب نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہو گا تو ادائیگی بھی تمام سالوں کی لازم ہو گی۔