سفارش

ناجائز سفارش کرنا کیسا ہے؟ ایک واقعہ

اس سے مراد ایسی سفارش ہے جس کے ذریعے کسی شرعی سزا کے نفاذ کو روکنے کی کوشش کی جائے. جیسا کہ حضرتِ سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جسکی سفارش اللہ کی حدود پار کر جائے اس نے اللہ کی مخالفت کی ۔”
(مستدرک ، کتاب الحدود، باب من حالت شفاعتہ الخ،رقم الحدیث۸۲۱۸، ج۵،ص۵۴۶)
رب تعالیٰ فرماتاہے :

وَمَنۡ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ کِفْلٌ مِّنْہَا ؕ

ترجمۂ کنزالایمان: اورجو بُری سفارش کرے اُس کے لئے اُس میں سے حصہ ہے ۔”
(پ ۵،النسآء:۸۵)

مخزومیہ عورت کی چوری

حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مخزومیہ عورت نے چوری کی توقریش سوچ وبچارکرنے لگے کہ سرورِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم سے اسکی سفارش کون کرے ؟ بالآخرحضرت اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہ کا انتخاب ہوا کہ یہ حضور کے محبوب ہیں یہ بات کرسکتے ہیں ۔

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے جب آپ صلي الله علي وسلم سے اس عورت کی سفارش کی تو سرورِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کی حدود میں سفارش کرتے ہو؟ ” پھرکھڑے ہوئے اورخطبہ دیا:”اے لوگو! تم سے پچھلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ ان میں صاحبِ منصب چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتااور اگر غریب چوری کرتا تو اس پر حد قائم کی جاتی ،خدا کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔”
(مسلم ، کتاب الحدود، باب قطع السارق الشریف وغیرہ،،رقم الحدیث۱۶۸۸،ص۹۲۷)

اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم

This post has been Liked 0 time(s) & Disliked 0 time(s)

اپنا تبصرہ بھیجیں