Anmol Heere

قیمتی ہیروں کا ایک سبق آموز چھوٹا سا واقعہ

کہتے ہیں،ایک بادشاہ اپنے مصاحبوں کے ساتھ کسی باغ کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اس نے دیکھا باغ میں سے کوئی شخص سنگریزے (یعنی چھوٹے چھوٹے پتھر)پھینک رہا ہے ،ایک سنگریزہ خود اس کو بھی آکر لگا۔ اس نے خُدّام کو دوڑایا کہ جا کر سنگریزے پھینکنے والے کو پکڑکر میرے پاس حاضِر کرو، چُنانچِہ خُدّام نے ایک گنوار کو حاضر کر دیا۔ بادشاہ نے کہا: یہ سنگریزے تم نے کہاں سے حاصل کئے ؟ اس نے ڈرتے ڈرتے کہا : میں ویرانے میں سیر کر رہا تھا کہ میری نظر ان خوبصورت سنگریزوں پر پڑی، میں نے ان کو جھولی میں بھر لیا، اس کے بعدپِھرتا پِھراتا اس باغ میں آنکلا اور پھل توڑنے کے لئے یہ سنگریزے استعمال کرلئے۔

بادشاہ نے کہا: تم ان سنگریزوں کی قیمت جانتے ہو ؟اس نے عرض کی : نہیں ۔ بادشاہ بولا :یہ پتھّر کے ٹکڑے دراصل انمول ہیرے تھے، جنہیں تم نادانی کے سبب ضائِع کرچکے۔اس پر وہ شخص افسوس کرنے لگا ۔مگر اب اس کا افسوس کرنا بے کار تھا کہ وہ انمول ہیرے اس کے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔

زندگی کے لمحات انمول ہیرے ہیں

میرے پیارے بھائیو!اسی طرح ہماری زندگی کے لمحات بھی انمول ہیرے ہیں اگر ان کو ہم نےـ بے کار ضائع کردیا تو حسرت و ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آ ئیگا ۔

دن بھر کھیلوں میں خاک اُڑائی    لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے

اللہ عزوجل نے انسان کو ایک مُقرَّرہ وَقت کیلئے خاص مقصد کے تحت اِس دنیا میں بھیجا ہے ۔چنانچہ پارہ 18سورۃُ المُؤمِنُون آیت نمبر115میں ارشاد ہوتا ہے:

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّکُمْ اِلَیۡنَا لَا تُرْجَعُوۡنَ ﴿۱۱۵﴾

ترجمہ کنزالایمان : تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں

‘ ‘خزائنُ العرفان” میں اس آیتِ مقدّسہ کے تحت لکھا ہے: اور (کیا تمہیں)آخِرت میں جزا کیلئے اٹھنا نہیں بلکہ تمہیں عبادت کیلئے پیدا کیا کہ تم پر عبادت لازم کریں اور آخِرت میں تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ تو تمہیں تمھارے اعمال کی جزا دیں۔

موت وحیات کی پیدائش کا سبب بیان کرتے ہوئے پارہ 29 سورۃُالملک آیت نمبر2میں ارشاد ہوتا ہے:

الَّذِیۡ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ؕ

ترجَمہ کنزالایمان : وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے۔

زندگی کاوَقت تھوڑا ہے

اے عزیز! مذکورہ دو آیات کے علاوہ بھی قراٰ نِ پاک میں دیگر مقامات پر تخلیقِ انسانی یعنی انسان کی پیدائش کا مقصد بیان کیاگیا ہے۔ انسان کو اس دنیا میں بَہُت مُختصر سے وقت کیلئے رہنا ہے اوراس وَقفے میں اسے قبر و حشر کے طویل ترین معاملات کیلئے تیاری کرنی ہے لہٰذا انسان کا وقت بے حد قیمتی ہے۔وَقت ایک تیز رفتار گاڑی کی طرح فَرّاٹے بھرتا ہوا جارہا ہے نہ روکے رُکتا ہے نہ پکڑنے سے ہاتھ آتا ہے، جو سانس ایک بار لے لیا وہ پلٹ کر نہیں آتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں