ایسا بکرا جس کی عمر ایک سال مکمل نہ ہوئی ہو لیکن وہ اتنا تندرست ہو چکا ہو کہ دیکھنے میں سال سے زیادہ کا لگتا ہو، اس کی قربانی شرعاً جائز نہیں ہے۔
بچھڑے اور دیگر جانوروں کا حکم
اسی طرح اگر کوئی بچھڑا دیکھنے میں دو سال سے زائد کا لگتا ہو مگر اس کی عمر مکمل نہ ہوئی ہو، تو اس کی قربانی بھی جائز نہیں۔
قربانی کے جانوروں کی عمر کی شرعی حد
- اونٹ: کم از کم 5 سال
- گائے/بھینس: کم از کم 2 سال
- بکرا/بکری: کم از کم 1 سال
اگر کسی جانور کی عمر اس سے کم ہو تو اس کی قربانی درست نہیں، چاہے وہ جسمانی طور پر بڑا لگے۔
دنبے اور بھیڑ کا استثناء
دنبے یا بھیڑ کا چھ ماہہ بچہ اگر اتنا بڑا ہو کہ سال بھر کے جانوروں میں شامل ہو جائے تو اس کی قربانی جائز ہے۔ لیکن یہ استثناء صرف بھیڑ اور دنبے کے لیے ہے، بکرے کے لیے نہیں۔
احادیث سے دلیل
صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“لا تذبحوا الا مسنة، الا ان یعسر علیکم، فتذبحوا جذعة من الضأن”ترجمہ: تم صرف مسنہ جانور ذبح کرو، ہاں اگر دشواری ہو تو دنبے یا بھیڑ کا چھ ماہہ بچہ ذبح کر لو (جو دکھنے میں سال کا لگے)۔ (1)
علماء کا فہم
علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “المسنہ سے مراد ہر جانور میں ثنی یا اس سے بڑا ہے” یعنی بکری، گائے، اونٹ وغیرہ کے لیے مقررہ عمر مکمل ہونا ضروری ہے۔ (2)