ہم کیوں نہیں بدلتے؟ مع بادشاہ کا واقعہ

ہم کیوں نہیں بدلتے؟ مع بادشاہ کا واقعہ

پیارے بھائیو! دنیاآخرت کی کھیتی ہے۔ انسان اس دنیا میں جوبوئےگا وہی آخرت میں کاٹےگا۔ کیونکہ قیامت کا دن نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں ملنے کا دن ہے۔ مگرافسوس!یہ سب جاننےکے باوجود ہم عبادت خداوندی سے دوراور بندوں کے حقوق کی ادائیگی سے بے پروا ہو کر جھوٹ، غیبت، چغلی، دھوکا دہی، دنیا کی محبت میں بد مست اورآخرت کی تیاری سے غافل ہیں اوراپنےآپ کوبدلنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ویسے تو انسان کی اصلاح میں بہت سی چیزیں رکاوٹ ہوتی ہیں، لیکن ہم تین اہم وجوہات کے بارے میں کچھ سیکھیں گے۔

  1. لمبی امیدیں،
  2. خود اِحتسابی[1]محاسَبۂ نفسکا نہ ہونا یعنی اپنے اعمال کا جائزہ نہ لینا اور
  3. بری صحبت کےمتعلق کچھ باتیں

آئیے! سب سے پہلےایک واقعہ جانتے ہیں : چنانچہ

لمبی امید کے خاتمے کا انعام

بصرہ کےایک بادشاہ نے باد شاہت کو خیر باد کہہ کر زہد وتقویٰ کی راہ اختیارکی، لیکن دوبارہ سلطنت و حکومت کی طرف مائل ہوا اور عیش وعشرت میں باقی زِندگی بسرکرنے کی ٹھان لی۔اس نےایک شاندار محل بنوایا،جس میں اعلیٰ قسم کےقالین بچھوائے اور ہر طرح کے ساز و سامان سے اس عظیم الشان محل کو آراستہ کرایا اور ایک کمرہ مہمانوں کے لئے خاص کر دیا، وہاں عمدہ بستر بچھائے جاتے، وہاں طرح طرح کے کھانےچنےجاتے۔

وہ بادشاہ لوگوں کو بلاتا،عظیم الشان محل اوربادشاہ کی شان وشوکت دیکھ کرلوگ خوب تعریف کرتے۔ یہ سلسلہ کافی عرصہ تک چلتا رہا، بادشاہ دنیا کی رنگینیوں میں گم ہو چکا تھا، اس کے اس عظیم الشان محل میں ہرطرح کے گانے باجے اور عیش وعشرت کا سامان موجود تھا۔ وہ ہروقت دنیوی لذتوں میں مگن رہتا۔ ان مشاغل نے اسےطول امل یعنی لمبی امید کےتباہ کن باطنی مرض میں مبتلا کردیا۔

ایک دن اس نےاپنے خاص وزیروں، مشیروں اور عزیزوں کو بلا کر کہا: تم اس عظیم الشان محل میں میری خوشیوں کو دیکھ رہے ہو، دیکھو! میں یہاں کتنا پرسکون ہوں، میں چاہتا ہوں کہ اپنے تمام بیٹوں کیلئے بھی ایسے ہی عظیم الشان محلات بنواؤں، تم لوگ چند دن میرے پاس رکو، خوب عیش کرو اورمزید محلات بنانے کے بارے میں مفید مشورے دو، تاکہ میں اپنے بیٹوں کے لئے بہترین محلات بنانے میں کامیاب ہوجاؤں۔

ایک غیبی آواز

چنانچہ وہ لوگ اس کے پاس رہنے لگے۔ ایک رات بادشاہ سمیت تمام لوگ لہوولعب میں مشغول تھے کہ محل کی کسی جانب سے ایک غیبی آواز نے سب کو چونکا دیا، کوئی کہنے والا کہہ رہاتھا:

”اے اپنی موت کو بھول کر عمارت بنانے والے! لمبی لمبی امیدیں چھوڑ دے، کیونکہ موت لکھی جا چکی ہے۔ لوگ خواہ خود ہنسیں یا دوسروں کوہنسائیں، بہرحال موت ان کیلئے لکھی جا چکی ہے اور بہت زِیادہ امید رکھنے والے کے سامنے تیار کھڑی ہے۔ ایسےمکانات ہرگز نہ بنا، جن میں تجھے رہنا ہی نہیں، تو عبادت و رِیاضت اختیار کرتا کہ تیرے گناہ معاف ہو جائیں۔“

اس غیبی آواز نے بادشاہ اوراس کے تمام ہمراہیوں کو خوف میں مبتلا کردیا۔ بادشاہ نے اپنے دوستوں سے کہا: جو غیبی آواز میں نے سنی کیا تم نے بھی سنی؟ سب نے کہا:جی ہاں! ہم نے بھی سنی ہے۔ بادشاہ نے کہا: جو چیز میں محسوس کر رہا ہوں، کیا تم بھی محسوس کر رہے ہو؟ پوچھا: آپ کیا محسوس کر رہے ہیں ؟ اس نے کہا: میں اپنے دل پر کچھ بوجھ سا محسوس کر رہا ہوں، مجھے لگتا ہے کہ یہ میری موت کا پیغام ہے۔ لوگوں نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں، آپ کی عمرلمبی اور عزت بلند ہو، آپ پریشان نہ ہوں۔

بادشاہ کی بارگاہ خداوندی میں التجاء

اس غیبی آواز نے بادشاہ کے دل سے لمبی لمبی اُمیدوں کا خاتمہ کردیا، اسے عیش و عشرت کے تمام منصوبے (Plans) حقیر نظر آنے لگے، فکرِ آخرت کا اس پر غلبہ ہوا، اس کےدل سے خواہشات کی آگ بجھ گئی اور وہ گناہ چھوڑنے کا عزم کرتے ہوئے، بارگاہ خداوندی میں یوں عرض گزار ہوا:

”اے میرے پاک پروردگار!میں تجھے اور یہاں موجود تیرے بندوں کوگواہ بنا کرتیری طرف رجوع کرتا ہوں، اپنے تمام گناہوں اور زِیادتیوں پر نادم ہو کر توبہ کرتا ہوں۔ اے میرے خالق!اگر تومجھے دنیا میں کچھ مدت اور باقی رکھنا چاہتا ہے تو مجھے دائمی اطاعت و فرمانبرداری کی راہ پر چلا دے اور اگر مجھے موت دے کر اپنی طر ف بلانا چاہتا ہے تو مجھ پر کرم کر دے اور اپنےکرم سے میرے گناہوں کو بخش دے۔“

بادشاہ اسی طرح مصروف التجا رہا اور اس کا درد بڑھتا گیا، پھر اس نے ان کلمات کی تکرار شروع کر دی: اللہ کی قسم! موت، اللہ کی قسم! موت۔ بس یہی کلمات اس کی زبان پر جاری تھے کہ اس کی روح پروازکر گئی۔[2]موسوعۃابن ابی الدنیا، قصرالامل، ۳/۳۶۱، رقم :۲۷۱،عیون الحکایات،الحکایۃ الثالثۃوالسبعون ۔۔الخ،ص ۴۰۴ ملخصاً

خدایا برے خاتمے سے بچانا پڑھوں کلمہ جب نکلے دم یاالٰہی
گناہوں کی عادت بڑھی جارہی ہے کرم یا الٰہی کرم یاالٰہی[3]وسائل ِبخشش مرمم ،ص۱۱۰،۱۱۱

ثواب کی نیت سے شیئر کرتے جائیں۔۔
Share on Facebook
Facebook
Tweet about this on Twitter
Twitter
Share on Reddit
Reddit
Share on LinkedIn
Linkedin
Buffer this page
Buffer
Digg this
Digg
Share on Tumblr
Tumblr
Share on Yummly
Yummly
Share on VK
VK
Email this to someone
email

حوالہ جات   [ + ]

اپنا تبصرہ بھیجیں