نَجاستِ غَلیظہ

نجاست

نَجاست کی اَقسام
نَجاست کی دو قسمیں ہیں:(1)نَجاستِ غَلِیظہ(غَ۔لِی۔ظَہ)(2) نَجاستِ خفیفہ (خَ۔ فِی۔فَہ)۔ (فتاوٰی قاضی خان ج۱ص۱۰)
نَجاستِ غَلیظہ
(1) انسان کے بدن سے جو ایسی چیز نکلے کہ اس سے غُسل یا وُضو واجِب ہو نَجاستِ غلیظہ ہے جیسے پاخانہ، پیشاب، بہتا خون، پیپ،منہ بھرقے ، حَيض و نِفاس و اِستحاضے کا خون،مَنی،مَذی، وَدی۔ (فتاوٰی عالمگيری ج ۱ ص۴۶) (2) جو خون زخم سے بہا نہ ہو پاک ہے۔ (فتاوٰی رضویہ مُخرَّجہ ج ۱ص۲۸۰) (3) دُکھتی آنکھ سے جو پانی نکلے، نَجاست غلیظہ ہے۔ یُوہیں ناف یا پِستان سے درد کے ساتھ پانی نکلے، نَجاستِ غلیظہ ہے۔ (اَیضاًص ۲۶۹ ۔ ۲۷۰) (4) خشکی کے ہر جانور کا بہتا خُون،مُردار کا گوشت اور چربی، (یعنی جس جانور میں بہتا خون ہوتا ہے وہ اگر بِغیر ذَبحِ شرعی کے مر جائے تومُردار ہے، نیزمجوسی یابُت پرست یا مُرتَد کا ذَبیحہ بھی مُردار ہے اگرچِہ اس نے حلال جانورمَثَلاً بکری وغیرہ کو”بِسم اللہِ اللہُ اکبر ” پڑھ کر ذَبح کیا ہو اس کا گوشت پَوست(چمڑا)، سب ناپاک ہوگیا۔ہاں مسلمان نے حرام جانورکوبھی اگرشَرعی طریقے سے ذَبح کر لیا تو اس کا گوشت پاک ہے اگرچِہ کھانا حرام ہے، سِوا خِنز یر کے کہ وہ نَجِسُ العَین ہے کسی طرح پاک نہیں ہو سکتا) (5) حرام چوپائے جیسے کُتّا، شَیر،لُومڑی، بلّی، چوہا، گدھا، خَچَّر، ہاتھی اور سُوَر کا پاخانہ ، پیشاب اور گھوڑے کی لِید اور(6) ہر حلال چوپائے کا پاخانہ جیسے گائے بھینس کا گوبر، بکری اونٹ کی مینگنی اور(7) جو پرند ہ کہ اونچا نہ اُڑے اس کی بِیٹ جیسے مر غی ا ور بَط (بطخ ) چھوٹی ہو خواہ بڑی، اور(8) ہر قسم کی شراب اور نشہ لانے والی تاڑی اور سیندھی اور(9)سانپ کا پاخانہ پیشاب اور(10) اُس جنگلی سانپ اور مینڈک کا گوشت جن میں بہتا خون ہوتا ہے اگر چِہ ذَبح کیےگئے ہوں، یوہیں ان کی کھال اگرچِہ پکا(یعنی سُکھا)لی گئی ہو اور(11) سُوَر کا گوشت اور ہڈّی اور بال اگرچِہ ذَبح کیا گیا ہویہ سب نَجاستِ غلیظہ ہیں۔ (بہار شریعت حصہ ۲ص۱۱۲،۱۱۳) (12) چھپکلی یا گرگٹ کا خون نَجاستِ غلیظہ ہے۔ (ایضاً ص۱۱۳) (13) ہاتھی کے سُونڈ کی رُطُوبت اورشَیر، کتّے، چیتے اور دوسرے درندے چَوپایوں کا لُعاب(تھوک) نَجاستِ غلیظہ ہے۔ (ایضاً)

دُودھ پیتے بَچّوں کا پَیشاب ناپاک ہے

اکثر عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ دُودھ پیتے بچّے چُونکہ کھانا نہیں کھاتے اس لیے ان کا پیشاب ناپاک نہیں ہوتا یہ غَلَط ہے، دودھ پیتے بچّے اوربچّی کا پیشاب پاخانہ بھی نَجاستِ غَلیظہ ہے۔اِسی طرح اگر دُودھ پیتے بچّے نے دُودھ ڈال دیا اگرمُنہ بھرہے تو نَجاستِ غَلیظہ ہے۔ (مُلخصاًبہارِشريعت حصہ۲ص۱۱۲مکتبۃ المدینہ)
نَجاستِ غَلیظہ کا حکم
نَجاستِ غَلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن پر ایک دِرہَم سےزیادہ لگ جائے تو اس کا پاک کرنا فرض ہے، بغیرپاک کیے اگر نَماز پڑھ لی تو نَماز نہ ہوگی۔ اور اس صورت میں جان بوجھ کر نَماز پڑھنا سخت گناہ ہے، اور اگر نَماز کوہلکا جانتے ہوئے اس طرح نَماز پڑھی تو کفر ہے۔
نَجاستِ غلیظہ اگر دِرہَم کے برابر کپڑے یا بدن پر لگی ہوئی ہو تو ا س کا پاک کرنا واجِب ہے اگربِغیر پاک کیے نَماز پڑھ لی تو نماز مکروہ ِتحریمی ہوگی اور ایسی صورت میں کپڑے یا بدن کو پاک کرکے دوبارہ نَماز پڑھنا واجب ہے، جان بوجھ کر اِس طرح نَماز پڑھنی گناہ ہے۔اگر نجاستِ غلیظہ درہم سے کم کپڑے یا بدن پر لگی ہوئی ہے تو اس کا پاک کرنا سُنّت ہے اگربِغیر پاک کیے نماز پڑھ لی تو نماز ہوجائے گی، مگر خلافِ سنّت،ایسی نماز کو دوہرا لینا بہتر ہے۔ (بہارِشريعت حصہ۲ص۱۱۱مکتبۃ المدینہ)
دِرہَم کی مِقدار کی وَضاحت
نَجاستِ غَلیظہ کا دِرہَم یا اس سے کم یا زیادہ ہونے سے مُراد یہ ہے کہ نجاستِ غلیظہ اگر گاڑھی ہو مَثَلاً پاخانہ، لِید وغیرہ تو دِرہَم سے مُراد وَزن
میں ساڑھے چار ماشہ(یعنی 4.374گرام) ہے، لہٰذا اگر نَجاست دِرہم سے زیادہ یاکم ہے تو اس سے مُراد وَزن میں ساڑھے چار ماشے سے کم یا زیادہ ہونا ہے اور اگرنَجاستِ غَلیظہ پتلی ہو جیسے پیشاب وغیرہ تو دِرہم سے مُراد لمبائی چوڑائی ہے یعنی ہتھیلی کو خوب پھیلا کر ہموار رکھیے اور اس پر آہِستگی سے اِتنا پانی ڈالیے کہ اس سے زیادہ پانی نہ رُک سکے، اب جتنا پانی کا پھیلاؤہے اُتنابڑا دِرہم سمجھا جائے گا۔ (بہارِ شریعت حصہ ۲ص۱۱۱مکتبۃ المدینہ)
کسی کپڑے یا بدن پر چند جگہ نَجاستِ غلیظہ لگی اور کسی جگہ دِرہم کے برابر نہیں، مگر مجموعہ درہم کے برابر ہے، تو درہم کے برابر سمجھی جائے گی اور زائد ہے تو زائد۔ نَجاستِ خفیفہ میں بھی مجموعے ہی پر حکم دیا جائے گا۔ (ایضاًص۱۱۵)

اپنا تبصرہ بھیجیں