شہر میں قربانی کی جائے تو اس کے لیے شرط یہ ہے کہ **عید کی نماز مکمل ہو جائے**۔ لہٰذا نماز عید سے پہلے شہر میں قربانی نہیں ہو سکتی۔
شہر میں عید کی نماز سے پہلے قربانی کا حکم
- دیہات میں قربانی: دیہات میں چونکہ نماز عید نہیں ہے تو وہاں طلوع فجر کے بعد سے ہی قربانی ہو سکتی ہے۔ البتہ، دیہات میں بہتر یہ ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد قربانی کی جائے۔
- شہر میں قربانی: شہر میں بہتر یہ ہے کہ جب عید کا خطبہ ہو جائے اس کے بعد قربانی کی جائے۔ یعنی نماز ہو چکی ہے اور ابھی خطبہ نہیں ہوا ہے، اس صورت میں قربانی ہو جائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔
قربانی کی جگہ کا اعتبار:
یہ جو شہر اور دیہات کا فرق بتایا گیا یہ **جانور کی قربانی کرنے کی جگہ کے لحاظ سے ہے**، قربانی کرنے والے کے اعتبار سے نہیں ہے۔ یعنی دیہات میں قربانی ہو اس کے لیے دیہات کا وقت ہے اگرچہ قربانی کروانے والا شہر میں ہو۔ اور شہر میں قربانی ہو تو نماز کے بعد ہو اگرچہ جس کی طرف سے قربانی ہے وہ دیہات میں ہو۔
لہٰذا شہری آدمی اگر یہ چاہتا ہے کہ صبح ہی نماز سے پہلے قربانی ہو جائے تو جانور دیہات میں بھیج دے۔
متعدد عیدگاہوں والے شہر کا حکم:
لیکن جس شہر میں متعدد جگہ عید کی نماز پڑھی جاتی ہو تو ایسے شہر میں **پہلی جگہ نماز ادا ہونے کے بعد قربانی کرنا جائز ہے**۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ اپنی قریبی عیدگاہ میں نماز ہو جائے جب ہی قربانی کی جائے، بلکہ کسی بھی مسجد میں اگر نماز ہو گئی اور عیدگاہ میں نہ ہوئی تب بھی قربانی ہو سکتی ہے۔
ردالمحتار کا حوالہ:
جیسا کہ ردالمحتار میں ہے:
ترجمہ: “اگر مسجد والوں کی نماز کے بعد قربانی کی اس حال میں کہ ابھی عید گاہ والوں نے نماز نہیں پڑھی تھی، تو استحساناً قربانی کرنا درست ہے۔”(1)
حوالہ جات
| 1↑ | ردالمحتار مع الدر المختار، ج9، ص528، مطبوعہ کوئٹہ |
|---|