جب کوئی شخص فریضۂ حج ادا کر کے واپس آئے تو اس کو تحفہ دینا جائز ہے بلکہ یہ عمل باعثِ ثواب ہے، بشرطیکہ تحفہ میں کوئی شرعی ممانعت نہ ہو جیسے رشوت یا حرام مال وغیرہ۔
تحفہ دینا سنت اور باعثِ محبت ہے
اسلام میں تحفہ دینا ایک مسنون عمل ہے، جیسا کہ حدیثِ پاک میں فرمایا گیا:
(تحفے دو، محبت بڑھے گی)(1)
خصوصاً حاجی جب واپس آئے تو اس کو ہدیہ دینا، اس کے دل کو خوش کرنا، اس سے دعا لینا باعثِ خیر و برکت ہے۔
حاجی کی دعا قبول ہوتی ہے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: حج و عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں، اگر اللہ سے دعا کریں تو قبول کی جاتی ہے، اگر بخشش مانگیں تو بخش دی جاتی ہے۔(2)
لہٰذا حاجی سے دعا کروانا مستحب عمل ہے، اور تحفہ دے کر اس کے دل کو خوش کرنا باعثِ ثواب ہے۔
کیا ہدیے میں مخصوص چیز دینی ضروری ہے؟
شرعی طور پر کوئی خاص چیز متعین نہیں کہ حاجی کو کیا دیا جائے۔ عرف کے مطابق جو چیز مفید ہو، وہی دینا بہتر ہے۔ جیسے:
- پیسے، اگر حاجی کو مالی ضرورت ہو
- لباس، اگر ضرورت ہو
- کھانے پینے کا سامان
- سفر سے متعلق کوئی کارآمد چیز
شرائط اور احتیاطیں
ہدیہ دیتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:
- تحفہ حلال مال سے ہو
- تحفہ رشوت یا بدلہ لینے کی نیت سے نہ ہو
- جس کو دینا جائز ہے، اسی کو دیا جائے
- ایسی چیز دی جائے جو واقعتاً فائدہ مند ہو
حجاج کے استقبال کی فضیلت
مسلمانوں کا طریقہ ہے کہ حجاج کرام کو رخصت کرنے، واپس خوش آمدید کہنے اور ان سے دعائیں لینے کے لیے اسٹیشن یا ایئرپورٹ تک جاتے ہیں۔
یہ عمل اس حدیث پر مبنی ہے:
یعنی: حاجی جب گھر سے نکلتا ہے تا وقت کہ وہ واپس لوٹ آئے، اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔(3)
لہٰذا حاجی کو ہدیہ دینا، اس سے دعائیں لینا، اور محبت سے پیش آنا شریعت میں نہ صرف جائز بلکہ ترغیب یافتہ عمل ہے۔