قربانی کی کھال کے مصرف کے متعلق آپ نے تفصیل پوچھی ہے، ذیل میں اس کے شرعی احکام بیان کیے گئے ہیں:
قربانی کی کھال کا مصرف
قربانی کی کھال کو اپنے ذاتی استعمال کے لیے کسی ایسی چیز سے بدلنا جائز نہیں جسے ہلاک کر کے نفع حاصل کیا جاتا ہو، جیسے روپیہ پیسہ، کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ۔ اگر کسی نے ایسا کر لیا تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے صدقہ کرے کیونکہ یہ مال اس کے حق میں خبیث (ناپاک) ہے، اس لیے کہ قربانی مال حاصل کرنے کی غرض سے نہیں کی جاتی۔
کھال کو بدلنے اور بیچنے کا حکم:
- قربانی کے چمڑے کو ایسی چیزوں سے بدلا جا سکتا ہے جسے باقی رکھتے ہوئے اس سے نفع اٹھایا جائے جیسے کتاب، یا اس طرح کی کوئی اور چیز جو کھال کے بدلے لی جائے۔
- کھال بیچنے میں نیت کا اعتبار ہے۔
- اگر اپنی قربانی کی کھال اپنی ذات کے لیے رقم کے عوض بیچی تو ایسا بیچنا بھی ناجائز ہے اور یہ رقم اس شخص کے حق میں مالِ خبیث ہے اور اس کا صدقہ کرنا واجب ہے، لہٰذا کسی شرعی فقیر کو دے دے اور توبہ بھی کرے۔
- اور اگر کسی کارِ خیر کے لیے مثلاً مسجد میں دینے ہی کی نیت سے بیچی تو بیچنا بھی جائز ہے اور اب مسجد میں دینے میں وہ رقم دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
ذاتی استعمال کا حکم:
اسی طرح قربانی کرنے والا کھال کو باقی رکھتے ہوئے اسے اپنے کسی کام میں بھی لا سکتا ہے، مثلاً اس کی جانماز بنائے، چلنی (چھلنی)، تھیلی، مَشکیزہ، دسترخوان، ڈول وغیرہ بنائے یا کتابوں کی جِلدوں میں لگائے، یہ سب کر سکتا ہے۔
اجرت میں دینا:
قربانی کی کھال جانور ذبح کرنے والے کو اجرت میں نہیں دے سکتے کیونکہ اس کو اجرت میں دینا بھی بیچنے ہی کے معنی میں ہے۔
مصرفِ کھال اور نیکی کے کام:
قربانی کی کھال کا مصرف یہ ہے کہ اسے ہر اس کام میں صرف کر سکتے ہیں جو قُرْبَت (یعنی نیکی) و کارِ خیر اور باعثِ ثواب ہو۔
- تعمیرِ مسجد یا مصارفِ مسجد میں قربانی کی کھالیں صرف کی جا سکتی ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہ بھی نیک اور ثواب کا کام ہے۔
- دین کے کاموں میں بھی دے سکتے ہیں۔
- دین کا کام کرنے والی تحریکوں اور تنظیموں کو بھی دے سکتے ہیں۔
- کسی مدرسے میں بھی دے سکتے ہیں۔
تملیکِ فقیر کی شرط:
قربانی کی کھالوں میں کسی فقیرِ شرعی کو مالک بنانا ضروری نہیں، کیونکہ تملیکِ فقیر زکوٰۃ اور بعض صدقاتِ واجبہ میں شرط ہے، ہر صدقۂ واجبہ میں بھی لازم نہیں، جیسے کفارۂ صیام و ظہار و یمین میں، کہ ان کا کھانا کھلانے میں اباحت کافی ہے۔ جبکہ کھال کو صدقہ کرنا واجب بھی نہیں، ایک نفلی صدقہ ہے، اسی لیے نیک، جائز اور قربت والے کاموں میں صرف کرنے کے علاوہ مخصوص شرائط کے ساتھ اپنے کام میں بھی لایا جا سکتا ہے۔
حدیث سے استدلال:
حضور اقدس ﷺ نے قربانی کے متعلق فرمایا:
ترجمہ: “پس کھاؤ، اٹھا رکھو اور ثواب کے کام میں خرچ کرو۔”(1)
حوالہ جات
| 1↑ | سنن ابی داؤد، کتاب الضحایا، باب حبس لحوم الاضاحی، جلد 2، صفحہ 40، مطبوعہ لاہور |
|---|