قربانی میں تَقَرُّبْ (یعنی خالصتاً اللہ پاک کی رضا کے لیے قربانی کرنا) کی نیت ہونا ضروری ہے اور جب بڑے جانور میں حصہ ہو، تو تمام افراد کی نیتِ تَقَرُّبْ ہونا ضروری ہے۔ ایک کی بھی نیت، قُرْبَتْ کی نہ ہوئی یا کوئی اور نیت، مثلاً گوشت حاصل کرنے وغیرہ کی نیت پائی گئی، تو کسی کی بھی قربانی نہیں ہوگی۔
حصہ دار کے فوت ہونے کی صورت میں قربانی کا حکم
سات افراد نے قربانی کی نیت سے ایک بڑا جانور خریدا اور ان میں سے ایک شخص قربانی کا دن آنے سے پہلے فوت ہو جائے تو:
- اگر فوت ہونے والے کے تمام بالغ ورثا اس کی طرف سے قربانی کرنے کی اجازت دے دیں، تو اس کی طرف سے قربانی کرنا بلا شبہ جائز ہے اور بقیہ سب کی بھی قربانی ادا ہو جائے گی۔
- اگر ورثا کی اجازت کے بغیر دیگر شرکائے قربانی نے خود ہی جانور ذبح کر دیا، تو ایسی صورت میں کسی کی بھی قربانی نہیں ہو گی، البتہ اس کا گوشت پاکیزہ و حلال ہی ہو گا۔
تفصیلی وضاحت
اس لیے کہ جب ایک شریک فوت ہوا، تو اس کا حصہ مالِ وراثت بن گیا اور ورثا کا حق اس کے ساتھ متعلق ہو گیا۔ لیکن جب تمام بالغ ورثا نے اجازت دے دی کہ ان کے مرحوم کی طرف سے حصہ شامل کر لیا جائے، تو یہ ان کی طرف سے میت کے لیے ایصالِ ثواب کے طور پر قربانی ہوگی اور اس طرح بڑے جانور میں زندہ افراد اور فوت شدہ کی طرف سے حصہ ملانے سے سب کی قربانی ہو جاتی ہے، کیونکہ سب کا مقصود (رضائے الٰہی کے لیے قربانی کرنا) ایک ہی ہے۔ لہٰذا جب میت کی طرف سے تقرب کی نیت ہو سکتی ہے، تو بطورِ شرکت بھی اس کا حصہ ملانا درست ہے۔
اور ورثا کی اجازت کے بغیر بقیہ چھ افراد کے جانور کو ذبح کر دینے کی صورت میں سب کی قربانی نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ چھ کی نیت تو تَقَرُّبْ کی تھی، مگر ایک حصہ بغیر قُرْبَتْ کے شامل ہوا، یعنی اس حصے میں کوئی نیت نہیں پائی گئی اور جب بڑے جانور میں ایک حصہ بھی بغیر نیتِ قُرْبَتْ پایا جائے، تو سب کی قربانی نہیں ہوتی۔
فقہی حوالہ
قربانی کے شرکا میں سے ایک فوت ہو جائے اور ورثا اس کی طرف سے قربانی کرنے کی اجازت دے دیں، تو قربانی ہو جانے کے متعلق علامہ بُرہانُ الدین مرْغِینانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:
ترجمہ: “اور جب سات افراد گائے کی قربانی میں شریک ہوں اور ان میں ایک شریک قربانی سے پہلے فوت ہو جائے اور ورثا کہیں کہ یہ گائے اس کی طرف سے اور اپنی طرف سے ذبح کر دو، تو سب کی قربانی ہو جائے گی۔” (1)
حوالہ جات
| 1↑ | الھدایہ، کتاب الاضحیۃ، جلد 4، صفحہ 449، مطبوعہ لاھور |
|---|