اسلامی تہذیب و تمدن میں جن تہواروں کو بڑے ہی شان و شوکت کے ساتھ منایا جاتاہے ان میں ایک اہم اور بابرکت دن عید الفطر کا ہے۔
اس دن کو عرف عام میں چھوٹی عید یا میٹھی عید بھی کہا جاتا ہے، جو کہ رمضان المبارک کے اختتام پر اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے اور ایمانی خوشی منانے کے طور پر منائی جاتی ہے۔
عید الفطر نہ صرف خوشیوں کا دن ہے بلکہ یہ دن اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعام و اکرام اور معافی و مغفرت کا دن بھی ہے۔ اس دن اہل ایمان کو رمضان کے روزوں، عبادتوں، اور اطاعتوں کا انعام عطا کیا جاتا ہے۔
عید الفطر کی روحانی فضیلت
عید کے دن کی فضیلت کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدِ الْفِطْرِ، بَعَثَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ فِي كُلِّ بَلَدٍ، فَيَنْزِلُونَ إِلَى الْأَرْضِ، فَيَقُولُونَ: يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ! اخْرُجُوا إِلَى رَبٍّ كَرِيمٍ يُعْطِي الْجَزِيلَ وَيَغْفِرُ الْعَظِيمَجب عید الفطر کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو زمین پر بھیجتا ہے، وہ گلیوں اور راستوں کے کناروں پر کھڑے ہو کر ندا دیتے ہیں: اے محمد ﷺ کی امت! اس ربِّ کریم کی طرف چلو جو بڑا عطا کرنے والا ہے، اور عظیم گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے۔ (1)
اللہ تعالیٰ بندوں سے فرماتا ہے: میرے بندو! مانگو، جو مانگو گے دوں گا۔ میری عزت و جلال کی قسم! تمہاری آخرت کی حاجتیں پوری کروں گا اور دنیا کی دعا میں بھی تمہاری بھلائی کو دیکھوں گا۔
عید کو “عید” کیوں کہا جاتا ہے؟
عربی زبان میں “عید” کا مطلب ہے “بار بار لوٹ کر آنے والی خوشی”۔ یہ دن ہر سال آتا ہے اور مسلمانوں کے لیے نئی روحانی خوشی اور اجتماعیت کا پیغام لاتا ہے۔
عید الفطر کا پیغام
- اللہ کی رضا اور معافی حاصل کرنے کا موقع
- باہمی محبت اور اخوت کے فروغ کا دن
- مساکین اور غریبوں کو فطرانہ دے کر خوشیوں میں شریک کرنا
- نماز عید کے ذریعے اللہ کے شکر کا اظہار کرنا
نتیجہ
عید الفطر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے ایک روحانی انعام، بخشش اور خوشی</strong کا دن ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس دن کو صرف کھانے پینے، سیر و تفریح یا دنیاوی خوشی تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اللہ کی قربت اور امت کی فلاح کا ذریعہ بنائیں۔
حوالہ جات
| 1↑ | الترغيب والترهيب، 2 / 20 |
|---|