اسلامی تہوار میں دس ذوالحجہ کے دن کو عید الاضحی، بقرہ عید، عید قربانی، بڑی عید وغیرہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
ہم عید الاضحیٰ پر قربانی کیوں کرتے ہیں؟
اس دن کو اسلامی روایت میں کئی لحاظ سے اہمیت حاصل ہے۔ اس دن ایک طرف عالم اسلام کے طول و عرض میں اہل ایمان حکم خداوندی پر عمل کرتے ہوئے سنت ابراہیمی ادا کرتے ہیں، تو دوسری طرف حج قران و حج تمتع کرنے والے فرزندان توحید منیٰ میں حج کے شکرانہ کے طور پر رضائے الٰہی کے لیے قربانی پیش کرتے ہیں۔
قربانی کا مفہوم اور مقصد:
قربانی کا لفظ جب اسلامی تعلیمات کے تناظر میں بولا جائے تو اس کے معنی میں عبادت و ثواب کا عنصر غالب آجاتا ہے۔ قربانی کی تعریف سے ہی اس کا مقصد اور اس مقصد کی تکمیل پر اجر و ثواب کا حاصل ہونا پتا چلتا ہے۔ قربانی کہتے ہیں کہ مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیتِ ثواب ذبح کرنا۔
ذوالحجہ کے مہینے کی 10 تاریخ کو اہل ایمان قربانی کا جانور اپنے رب کی رضا کے لیے پیش کر کے اپنے رب کی قربت کی لازوال نعمت سے سرشار ہوتے ہیں اور اپنے رب کی راہ میں قربانی کا جانور پیش کرنے سے ان کے اندر جذبہ قربانی مزید پہلے سے بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔
اطاعتِ خداوندی اور سنتِ ابراہیمی کی یادگار:
مسلمان عید الاضحی کے دن قربانی اللہ پاک کی رضا کے لیے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے کرتے ہیں۔ اس سنت کو ادا کر کے حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام اور حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اطاعتِ خدا کی یاد تازہ کرتے ہیں کہ کس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے رب کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے بیٹے کی قربانی کے لیے تیار ہوئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی حکمِ الٰہی پر عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے قربان ہونے کے لیے راضی ہو گئے۔
اہل ایمان بھی اسی جذبہ قربانی کو پیش نظر رکھ کر رب قدوس کی دی ہوئی حیثیت اور استطاعت کے مطابق قربانی کر کے بارگاہ الٰہی سے کثیر اجر و ثواب کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
تقویٰ اور اخلاص کی اہمیت:
نیز اللہ جل مجدہ کے نزدیک بھی بندہ کی طرف سے کی جانے والی قربانی سے مقصود بندہ کا تقویٰ اور اخلاص ہے کیونکہ رب کو جانور یا اس کے گوشت کی ضرورت نہیں بلکہ اس کی بارگاہ میں جو چیز مقبول ہے وہ اخلاص ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے۔ (1)
عید الاضحی کا دن درحقیقت خلیل اللہ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی یاد تازہ کرتا ہے۔ اس دن اہل ایمان خلیل اللہ کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے، ان کی سنت کو زندہ کرتے ہوئے رب کی خوشنودی کے لیے قربانی کا جانور پیش کر کے رب کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔ اسی لیے اس دن رضائے الٰہی کے لیے جانور کا خون بہانے سے زیادہ کوئی اور نیکی مقبول نہیں۔
حوالہ جات
| 1↑ | الحج : 37 |
|---|