اگر پچھلے سال کسی شخص پر قربانی واجب ہوئی مگر اس نے قربانی ادا نہ کی، تو اس صورت میں پچھلے سال کی قربانی نہ کرنے کی وجہ سے ایک بکری کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہے۔ وہ اس سال پچھلے سال کی قربانی جانور ذبح کر کے ادا نہیں کر سکتا۔
گزشتہ سال کی قربانی کو موجودہ سال میں ادا کرنے کا حکم
ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ پچھلے سال کی فوت شدہ قربانی کے بدلے میں اس سال بڑے جانور میں حصہ لے لے یا کوئی بکرا، بکری قربان کر دے۔ اس طرح کرنے سے سابقہ قربانی ادا نہیں ہو سکتی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر صاحبِ نصاب پر قربانی کے ایام گزر جائیں اور اس نے قربانی کے لیے جانور بھی نہ خریدا ہو، تو پھر اس پر بکری کی قیمت صدقہ کرنا لازم آتا ہے۔
گزشتہ سال کی نیت سے قربانی کرنے کا حکم
اور اگر اس سال گزشتہ سال کی نیت سے بڑے جانور میں حصہ ڈالیں گے، تو موجودہ سال کی قربانی ادا ہو جائے گی اور باقی گزشتہ سال کی طرف سے ادا نہیں ہو گی۔ ایسی قربانی محض نفل ہو گی اور ایسی صورت میں سارے کا سارا گوشت (یعنی موجودہ سال والی اور دوسری قربانیوں کا گوشت) بھی صدقہ کرنا ہو گا، کیونکہ وہ قربانی واجب کے طور پر ادا نہیں ہوئی۔
فقہی حوالہ
گزشتہ سالوں کی نیت سے حصہ ڈالنے کے متعلق ردالمحتار میں ہے:
ترجمہ: “(بڑے جانور میں) شرکاء میں سے کسی ایک نے موجودہ سال کی قربانی کی نیت کی اور باقیوں نے گزشتہ سالوں کی، تو موجودہ سال والے کی نیت درست ہو جائے گی اور اس کے ساتھیوں کی نیت باطل ہو گی اور ان کی قربانیاں نفل ہوں گی اور ان پر اور اس اکیلے پر (جس نے موجودہ سال کی نیت کی تھی، ان سب پر) گوشت صدقہ کرنا لازم ہو گا۔” (1)
حوالہ جات
| 1↑ | رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، صفحہ 540، مطبوعہ کوئٹہ |
|---|