حضور ﷺ کا اپنی امت کی طرف سے قربانی کرنا
ایک حدیث مبارکہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے، فربہ، سینگ دار، چتکبرے اور خصی مینڈھے خریدتے، ایک کو ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے جو اللہ کی توحید اور آپ کی رسالت کی گواہی دیتے اور دوسرا محمد اور آل محمد ﷺ کی طرف سے۔ (1)
اس حدیث سے واضح ہوا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کی طرف سے قربانی فرمائی، اور یہ عمل ایصالِ ثواب پر دلیل ہے۔ لہٰذا کسی بھی مسلمان کی طرف سے قربانی کرنا، بالخصوص نبی کریم ﷺ کی طرف سے قربانی کرنا شرعاً جائز ہے اور باعثِ برکت بھی۔
صحیح مسلم کی حدیث سے مزید وضاحت
ایک اور حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے ایسا بکرہ لانے کا حکم دیا جو سیاہ چال، سیاہ نظر اور سیاہ بیٹھک والا ہو۔ جب وہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: “عائشہ چھری لاؤ”، پھر فرمایا: “اسے تیز کرو”۔ پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی: “اے اللہ! یہ قربانی محمد، آلِ محمد اور امتِ محمد کی طرف سے قبول فرما”، پھر اس کی قربانی کی۔ (2)
ایصالِ ثواب اور قربانی
یہ بات شریعت کے عمومی اصول سے بھی ثابت ہے کہ کسی بھی نیک عمل کا ثواب دوسرے مسلمان کو بخشا جا سکتا ہے۔ لہٰذا نبی کریم ﷺ، صحابہ کرام، اولیائے کرام، والدین، مرحومین یا امتِ مسلمہ کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
ایصالِ ثواب کے طور پر قربانی کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ افضل بھی، کیونکہ یہ قربانی ایک طرف خود اجر کا سبب ہے اور دوسری طرف بخشش و مغفرت کے لیے ذریعہ بن سکتی ہے۔
خلاصہ
نبی کریم ﷺ نے خود اپنی امت کی طرف سے قربانی فرمائی اور دعا بھی کی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے۔ آج بھی ہر صاحب استطاعت مسلمان کو چاہیے کہ وہ نبی کریم ﷺ، اپنے والدین، مرحومین، بزرگانِ دین اور امتِ مسلمہ کی طرف سے قربانی کر کے ایصالِ ثواب کا ذریعہ بنے۔