شراب بیچنا سخت گناہ اور حرام کام ہے۔ اور کسی کو اس طرح کے کاموں کے لیے دکان کرائے پر دینا انتہا درجے کی بد عقلی اور ناسمجھی ہے کہ جب دکان میں حرام کام جاری ہوں گے تو گناہ سے بچنے کا ذہن کہاں بنے گا؟ ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے اور اس میں مسلمانوں کی بدخواہی ضرور ہے جس سے بچنا چاہیے۔
شراب خانہ سے حاصل شدہ کرایہ کا حکم
شرعی مسئلہ یہ ہے کہ دکان وغیرہ کرایہ پر دینا جائز ہے اور اس کا کرایہ بھی جائز جبکہ حرام کام کے عوض کرایہ نہ ہو۔ لہٰذا اگر کوئی شخص کسی کو دوکان کرائے پردے اور اس دینے سے اس کے حرام کام میں تعاون کی نیت نہ ہو اور لینے والا اس میں شراب بیچنے اور اس کے سبب کوئی فتنہ بھی نہ ہو تو یہ اس کا اپنا فعل ہے، جس کا گناہ کرائے پر دینے والے کے ذمے نہیں آئے گا۔
- ہاں! اگر کرائے پر دینے والا اس کے شراب بیچنے والے کام میں اس کی مدد کی نیت کرے تو ایسی صورت میں مالک دکان اپنی اس بری نیت کی سبب گناہ گار ہوگا۔
- نیز اگر دوکان ایسی جگہ ہے کہ جہاں اس کا اظہار ہمسایوں کی خرابی و ضرر کا باعث بنے گا تو یہ فتنے کا سبب ہونے کی وجہ سے گناہ کا کام ہوگا، لہذا ایسی صورت میں اپنی دوکان کرائے پر نہیں دے سکتا۔
مسلمان مکان کرایہ پر دے اس کی غرض کرایہ سے ہے، اور اعمال نیات پر ہیں، یہ نیت کیوں کرے کہ اس لئے دیتا ہے کہ اس میں شراب نوشی و شراب فروشی ہو، ایسی حالت میں کرایہ اس کے لئے حلال ہے۔
ہاں جو اس حرام نیت کو شامل کرلے کہ وہ اب خود ہی گنہگار بنتا ہے، اور اگر وہ مکان ایسی جگہ واقع ہے جہاں ان مفاسد کا اظہار باعث ضرر و خرابی ہمسائگان ہوگا، تو ناجائز، یہ باعث فتنہ ہوا، اور فتنہ حرام، بہرحال نفس اجرت کہ کسی فعل حرام کے مقابل نہ ہو، حرام نہیں۔
قرآنی حوالہ
اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ کنز الایمان: “اور کوئی بوجھ اُٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہ اُٹھائے گی۔” (1)
فقہی حوالہ
محیط برھانی میں ہے:
ترجمہ: “اگر مسلمان اپنا گھر کسی ذمی کافر کو کرائے پر دے، تو اِس میں کوئی مضائقہ نہیں، کیونکہ اجارہ ایک مباح کام یعنی رہائش کے لیے ہوا ہے، لہذا جائز ہے، اور اگر وہ ذمی اُس گھر میں شراب پئے یا صلیب کی پوجا کرے یا گھر میں خنزیر کو رکھے تو گھر کرائے پر دینے والے مسلمان کو کوئی گناہ نہیں ہو گا، کیونکہ مسلمان نے اِن مقاصد کے لیے گھر کرائے پر نہیں دیا تھا، بلکہ اُس نے تو صرف رہائش کے لیے دیا تھا، یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص کسی فاسق کو گھر کرائے پر دے، تو یہ جائز ہے، اگرچہ وہ فاسق اُس گھر میں گناہ کے کام کرے۔” (2)