اگر امام ضعیف ہو یعنی زیادہ عمر یا کسی اور وجہ سے ضعف ہو، تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھنے کے کچھ احکام ہیں جن کی تفصیل ذیل میں دی گئی ہے۔
ضعیف امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا حکم
اگر امام رکوع اور سجود اور دیگر نماز کے افعال صحیح طریقہ سے ادا کر لیتا ہو، اور اس میں امامت کی شرائط پائی جاتی ہوں (یعنی صحیح العقیدہ، سنی، صحیح الطہارت، صحیح القراءت، غیرفاسق معلن ہو)، تو اس کو امام بنا کر اس کی اقتداء کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
کمزور امام کے پیچھے نماز کے مختلف احوال
- اگر امام ایسا ضعیف ہے کہ رکوع و سجود و قیام پر قادر نہیں بلکہ اشارے سے نماز پڑھتا ہو، تو اس کی اقتداء ایسا شخص نہیں کر سکتا جو رکوع و سجود و قیام پر قدرت رکھتا ہو۔
- البتہ، اگر امام بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہو اور رکوع و سجود بھی کرتا ہو، تو اس کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی نماز ہو جائے گی۔
امامت کی شرائط
واضح رہے کہ امامت کی چند شرائط ہیں جن کا خیال رکھنا امام بننے کے لیے ضروری ہے:
- امام کی طہارت صحیح ہو۔
- قراءت صحیح ہو۔
- سنی صحیح العقیدہ ہو۔
- فاسق نہ ہو۔
- اس میں کوئی ایسی بات نہ ہو جس کی وجہ سے مقتدی نفرت کریں۔
- مسائلِ نماز و طہارت سے آگاہ ہو۔
بہار شریعت کا حوالہ
بہار شریعت میں لکھا ہے:
“جو رکوع و سجود سے عاجز ہے یعنی وہ کہ کھڑے یا بیٹھے رکوع و سجود کی جگہ اشارہ کرتا ہو، اس کے پیچھے اس کی نماز نہ ہوگی جو رکوع و سجود پر قادر ہے اور اگر بیٹھ کر رکوع و سجود کر سکتا ہو تو اس کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی ہوجائے گی۔ درمختار، ردالمحتار وغیرہما۔” (1)
حوالہ جات
| 1↑ | بہار شریعت، جلد1، صفحہ580، مکتبۃ المدینہ |
|---|