زکاۃ، فطرانہ یا قربانی جیسے مالی عبادات میں اکثر یہ شرط آتی ہے کہ وہ شخص صاحبِ نصاب ہو اور اس کے پاس “ضرورت سے زائد مال” ہو۔ اس اصطلاح کا مطلب سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے “حاجتِ اصلیہ” کا مفہوم واضح کیا جائے۔
حاجتِ اصلیہ کیا ہے؟
فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے مطابق حاجتِ اصلیہ سے مراد وہ بنیادی ضروریاتِ زندگی ہیں جن کے بغیر زندگی میں شدید تنگی یا پریشانی پیدا ہوتی ہے۔ ان میں درج ذیل اشیاء شامل ہیں:
- رہنے کا مکان
- پہننے کے کپڑے (موسمی اعتبار سے)
- روزمرہ استعمال کے برتن
- ضروری سواری (جیسے ایک گاڑی)
- کاروباری پیشے کے اوزار
- علمِ دین کی کتب (عالم کے لیے)
- خادم، گھریلو ضروریات کا سامان
- سردی گرمی کا بستر و کپڑے
یہ وہ چیزیں ہیں جو “حاجتِ اصلیہ” میں شامل ہوتی ہیں اور ان پر زکوٰۃ، فطرانہ یا قربانی واجب نہیں ہوتی۔
ضرورت سے زائد مال کی مثالیں
جب انسان کے پاس حاجتِ اصلیہ سے زائد کچھ مال یا اشیاء ہوں تو وہ “ضرورت سے زائد” شمار ہوں گی۔ مثال کے طور پر:
- رہائشی مکان کے علاوہ مزید جائیدادیں
- ایک سے زائد گاڑیاں جن کی ضرورت نہ ہو
- زائد برتن، جو استعمال میں نہ آتے ہوں
- زائد کپڑے، جو پہنے نہیں جاتے
ایسی اشیاء اگر اتنی ہوں کہ ان کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا زیادہ ہو جائے، تو صاحبِ نصاب کہلائیں گے، اور ان پر قربانی یا فطرانہ واجب ہوگا (مزید شرائط کے ساتھ)۔
زکوٰۃ کے لیے شرط الگ ہے
یاد رہے کہ زکوٰۃ صرف ہر زائد مال پر واجب نہیں بلکہ صرف مخصوص اموال پر واجب ہوتی ہے جیسے:
- سونا
- چاندی
- کرنسی
- مالِ تجارت
- چرنے والے جانور
فقہی حوالہ
قربانی واجب ہونے کے نصاب کے ضمن میں حاجتِ اصلیہ کی تعریف بیان کرتے ہوئے بدائع الصنائع میں علامہ کاسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه و مالا يستغنی عنه وهو نصاب صدقة الفطر“
ترجمہ: مالداری کا اعتبار ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کے پاس رہائشی مکان، گھر کا سامان، کپڑے، خادم، گھوڑا، ہتھیار اور ناگزیر اشیاء کے علاوہ اتنا مال ہو جس کی قیمت دو سو درہم یا بیس دینار (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونے) کے برابر ہو، اور یہی صدقہ فطر کا نصاب ہے۔ (1)
حوالہ جات
| 1↑ | بدائع الصنائع، کتاب التضحیہ، جلد 4، صفحہ 196، مطبوعہ کوئٹہ |
|---|