چغلی کھانا کیسا ہے اور اسکے بارے میں کیا حکم ہے؟

چغلی

علامہ نووی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :” لوگوں میں فساد ڈالنے کیلئے ایک کی بات دوسرے کو بتانا ”چغلی ”ہے۔کسی ضرورتِ شرعی کے بغیر چغلی کرناحرام ہے مثلاً جسے بات پہنچا رہا ہے نہ پہنچانے میں اسے نقصان ہوگاتو بات بتانا واجب ہے کیونکہ اب یہ چغلی نہیں خیر خواہی ہوگی۔
(حدیقہ ندیہ ،ج۲،ص ۴۲۷)
افسوس ! آج ہمارے معاشرے میں یہ مرض بھی عام ہے۔بدقسمتی سے بعض لوگوں میں یہ مرض اتنی ترقی پا چکا ہوتا ہے کہ لاکھ کوشش کے باوجود اس کا علاج نہیں ہوپاتا۔ اس قسم کے لوگ جب تک اپنی لگائی ہوئی آگ سے کسی کا نشیمن جلتے ہوئے نہ دیکھ لیں انہیں کسی کروٹ چین نہیں آتا اورنہ ہی یہ ایک معرکہ سر کرنے کے بعد دوسرے میدان کی طرف بڑھ جانے میں تاخیر کرتے ہیں۔ ایسوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ چغل خوری کی مذمت میں رحمن عزوجل اوراس کے حبیب صلي اللہ عليہ وسلم کے فرامین ملاحظہ کریں اور چغل خوری کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لئے اپنی آنکھیں بند ہونے سے پہلے کامل توبہ کی سعادت حاصل کر لیں ۔
چغل خور ی کی مذمت بیان کرتے ہوئے رب تعالیٰ فرماتاہے :

وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیۡنٍ ﴿ۙ۱۰﴾ہَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیۡمٍ ﴿ۙ۱۱﴾

ترجمۂ کنزالایمان : اورہرایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا ذلیل بہت طعنے دینے والا بہت ادھر کی ادھر لگاتا پھر نے والا ۔”
(پ ۲۹،القلم:۱۰،۱۱ )

احادیث مبارکہ

جبکہ ،۔۔۔۔۔۔(۱) حضرتِ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رحمتِ عالم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ”غیبت اورچغلی ایمان کو اس طرح قطع کر دیتی ہیں جیسے چرواہا درخت کو کاٹ دیتاہے۔ ”
(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب ، رقم الحدیث ۲۸،ج۳،ص۳۳۲)
(۲) حضرتِ سیدتنا اسماء بنت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ” اللہ تعالیٰ کے بد ترین بندے وہ ہیں جو لوگوں میں چغلی کھاتے پھرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں۔”
(مسند احمد، رقم۲۷۶۷۰،ج۱۰،ص۴۴۲)
(۳) حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایاکہ : ”میرے نزدیک تم میں سب سے پسندیدہ لوگ وہ ہیں جو تم میں بہترین اخلاق والے نرم دل ،لوگوں سے محبت کرنے والے اور جن سے لوگ محبت کرتے ہونگے اور تم میں میرے نزدیک سب سے ناپسند یدہ لوگ وہ چغل خور ہیں جو دوستو ں کے درمیان تفرقہ ڈالتے اور پاک دامن لوگو ں میں عیب ڈھونڈتے ہونگے۔”
(مجمع الزوائد ،کتاب الادب،باب ماجاء فی حسن الخلق، رقم ۱۲۶۶۸، ج۸، ص ۴۷)
(۴) حضرتِ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے سرورِ کونین صلي اللہ عليہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ” چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔”
(صحیح البخاری ، کتاب الادب ، باب مایکرہ من النمیمۃ ، رقم الحدیث ۶۰۵۶،ج۴،ص۱۱۵)
(۵) حضرتِ سیدنا علاء بن حارث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہيں کہ سرکارِ مدینہ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ”غیبت کرنے والوں ، چغل خور اورپاکباز لوگوں پر عیب لگانے والوں کا حشر کتوں کی صورت میں ہوگا۔”
(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب ، رقم الحدیث ۱۰، ج۳،ص۳۲۵)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم

اپنا تبصرہ بھیجیں