حج و عمرہ میں جہاں “دم” کا ذکر آتا ہے تو اس سے مراد جانور کو حدود حرم میں ذبح کرنا ہے۔ چاہے وہ دم کی کوئی بھی قسم ہو، جیسے دم شکر یا دم جبر۔ لہٰذا، اس جانور کی قربانی ہونا ہی ضروری ہے، زندہ جانور صدقہ کرنے سے دم ساقط نہیں ہوگا اور یہ ذبح بھی حدود حرم میں ہی ہوگا تو کفایت کرے گا ورنہ نہیں۔
دم کے معنی اور اس کے شرعی احکام
دم میں بکرا یا بکری، دونوں میں سے کوئی بھی دے سکتے ہیں، البتہ یہ خیال رہے کہ جو شرائط قربانی کے جانور میں پائی جانا ضروری ہیں، وہی دم والے جانور میں بھی ضروری ہیں۔
دم کی ادائیگی کے متعلق اہم مسائل:
- جرمِ اختیاری کے ارتکاب پر جہاں دم واجب ہو، وہاں دم دینا ہی لازم ہوتا ہے، اس کے بجائے صدقہ یا روزے رکھنا کفایت نہیں کرتا۔
- البتہ، دم کی ادائیگی فی الفور لازم نہیں، بلکہ بعد میں بھی دیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اگر کسی کے پاس فی الوقت دم دینے کی استطاعت نہیں، تو انتظار کرے، جب استطاعت ہو تو خود یا کسی معتمد فرد کے ذریعے حرم میں ایک بکری ذبح کروا دے۔
- اگر قرض لے کر دم کی ادائیگی کر سکتا ہو، تو قرض لے کر کرے۔
- اگر زندگی میں دم ادا نہ کیا تھا کہ وفات کا وقت قریب آ گیا، تو وصیت کرنا واجب ہے، بغیر وصیت کیے فوت ہو گیا، تو گنہگار ہوگا۔
- لیکن جلد از جلد ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ زندگی اور موت کا کوئی پتا نہیں۔