حج قران کرنے والے آفاقی حاجی کے لیے طوافِ قدوم سنتِ مؤکدہ ہے۔ جسے کوئی عذر نہ ہو اسے اس کی ادائیگی کا ضرور اہتمام کرنا چاہیے۔
حج قران میں طواف قدوم کو ترک کرنے کا حکم
بغیر کسی عذر کے طوافِ قدوم ترک کر دینا، اساءت (یعنی بُرا فعل) ہے، ایسا شخص شرعاً قابل عتاب اور مستحق ملامت ہے۔
عذر کی صورت میں حکم:
البتہ اگر کسی عذر کی وجہ سے طواف قدوم کا ترک کیا ہو، تو یہ اساءت بھی نہیں ہو گا۔
لہٰذا کوئی خاتون، ماہواری کے عذر کی وجہ سے طواف قدوم نہ کرسکی اور حج کے لیے روانہ ہوگئی، تو نہ وہ گنہگار ہوگی اور نہ مرتکب اساءت ہوگی۔
اسی طرح طواف قدوم نہ کرنے کے سبب اس پر کوئی کفارہ وغیرہ بھی لازم نہیں ہو گا، کیونکہ سنت کے ترک سے کفارہ لازم نہیں آتا۔
سنت ہونے کی دلیل:
حج قران اور افراد کرنے والے آفاقی کے لیے طوافِ قدوم سنت ہے، جیسا کہ لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے:
ترجمہ: طواف قدوم، حج افراد اور حج قران کرنے والے آفاقی کے لیے عام کتب معتمدہ کے مطابق، سنت ہے۔ (1)
حوالہ جات
| 1↑ | لباب المناسک مع شرحہ، باب انواع الاطوفۃ، صفحہ 198، 199، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ |
|---|