نحر کرنا ذبح کی ہی ایک قسم ہے جو کہ اونٹ کے ساتھ خاص ہے۔
نحر کیا ہے اور اس کا شرعی حکم
ذبح شرعی کی اقسام:
دراصل ذبح شرعی کی دو قسمیں ہیں:
- اختیاری
- اضطراری
ذبح اضطراری:
یہ ہے کہ شکاری جانور جس کو پکڑنا مشکل ہو تو اس جانور کے بدن میں کسی جگہ نیزہ وغیرہ بھونک کر خون نکال دیا جائے، اس سے صرف مخصوص صورتوں میں جانور حلال ہوتا ہے۔
ذبح اختیاری کی اقسام:
ذبح اختیاری کی دو قسمیں ہیں: (1) ذبح، (2) نحر۔
- ذبح:
گلے میں چند رگیں ہیں ان کے کاٹنے کو ذبح کہتے ہیں۔ ذبح کی جگہ حلق اور لبہ کے مابین ہے (لبہ سینہ کے بالائی حصہ کو کہتے ہیں)۔ - نحر:
حلق کے آخری حصہ میں نیزہ وغیرہ بھونک کر رگیں کاٹ دینے کو نحر کہتے ہیں۔
نحر اور ذبح کی سنت
اونٹ کو نحر کرنا اور گائے، بکری وغیرہ کو ذبح کرنا سنت ہے۔ اور اگر اس کا عکس کیا یعنی اونٹ کو ذبح کیا اور گائے وغیرہ کو نحر کیا تو جانور اس صورت میں بھی حلال ہو جائے گا مگر ایسا کرنا مکروہ ہے کہ سنت کے خلاف ہے۔
عوام میں یہ مشہور ہے کہ اونٹ کو تین جگہ ذبح کیا جاتا ہے، یہ غلط ہے اور یوں کرنا مکروہ ہے کہ بلا فائدہ ایذا دینا ہے۔
اونٹ نحر کرنے کا طریقہ
اونٹ نحر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جب اونٹ کو نحر کیا جائے تو اونٹ کا کھڑے کھڑے بایاں گھٹنا باندھنا چاہیے، اور تین پر اسے کھڑا رکھا جائے پھر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اسے نحر کیا جائے وہ اس طرح کہ چھری یا لوہے کے کسی بھی تیز آلہ کو گردن کے نچلے والے گڑھے میں گھونپ دیں۔ اور اس کے بعد جب وہ زمین پر گر جائے اور اس کی حرکت ساکن ہو جائے تو اس وقت باقی کا پروسیس شروع کیا جائے۔
حضور اکرم ﷺ کا نحر فرمانا
حضور ﷺ نے بھی اپنے ہاتھ مبارک سے اونٹ کو نحر فرمایا جیسا کہ صحیح مسلم میں حدیث پاک ہے:
یعنی: (حجۃ الوداع کے موقع پر رمی سے فارغ ہوکر) نبی کریم ﷺ قربان گاہ کی طرف تشریف لے گئے اور اپنے مبارک نورانی ہاتھ سے تریسٹھ (63) اونٹ نحر فرمائے؛ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اجازت عطا فرمائی اور انہوں نے بقیہ اونٹوں کو نحر فرمایا۔ (1)
حوالہ جات
| 1↑ | صحیح المسلم، جلد 4، کتاب الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، صفحہ 38، مطبوعہ دار الطباعہ، ترکیا |
|---|