3 Jummey susti se chorrney par kya hota hai

تین جمعے سُستی سے چھوڑنے پر کیا ہوتا ہے؟

محبوبِ خدا ﷺ کافرمان ہے:’’جو شخص تین جمعہ(1)کی نَماز سستی کے سبب چھوڑے اللّٰہ پاک اس کے دل پر مُہر کر د ے گا۔‘‘(2)سُنَنِ تِرمِذی ج۲ص۳۸حدیث۵۰۰
جمعہ فرض عین ہے اور اس کی فرضیّت ظہر سے زیادہ موکد(3)یعنی تاکیدی ہے اور اس کا منکِر(4)یعنی انکار کرنے والا کافر ہے۔(5)دُرِّمُختار ج ۳ص۵، بہارِ شریعت ج۱ص۷۶۲

سرکار ﷺ نے کُل کتنے جُمُعے ادا فرمائے ؟

حکیم الامت حضر ت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان فرماتے ہیں : نبیِّ کریم ﷺ نے تقریباً پانچ سو جمعے پڑھے ہیں اِس لئے کہ جمعہ بعدِ ہجرت شروع ہوا جس کے بعد دس سال آپ ﷺ کی ظاہِری زندَگی شریف رہی اس عرصہ میں جمعے اتنے ہی ہوتے ہیں ۔(6)مِراٰۃ ج۲ص۳۴۶،لمعات للشیخ عبد الحق الدہلوی ج۴ص۱۹۰ تحتَ الحدیث۱۴۱۵

شفا داخل ہوتی ہے

حضرتِ حمید بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا:’’ جو شخص جمعہ کے دن اپنے ناخن کاٹتا ہے اللہ تعالٰی اس سے بیماری نکال کرشفا داخل کردیتا ہے۔‘‘(7)مصنف ابن ابی شیبہ ج۲ص۶۵

دس دن تک بلاؤں سے حِفاظت

مولانا امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوِی فرماتے ہیں ، حدیث پاک میں ہے: جو جمعہ کے روز ناخن ترشوائے اللہ تعالیٰ اس کو د وسرے جمعے تک بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور تین دن زائد یعنی دس دن تک۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جو جمعہ کے دن ناخن ترشوائے تو رحمت آ ئے گی گناہ جائیں گے۔(8)بہارِ شریعت حِصَّہ۱۶ ص۲۲۶،درِمختار وردالمحتار ج۹ ص۶۶۸،۶۶۹

رزق میں تنگی کا ایک سبب

حضرت مولانا محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمَۃ اللہ القَوِی فرماتے ہیں : جمعہ کے دن ناخن ترشوانا مستحب ہے، ہاں اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جمعہ کا انتظار نہ کرے کہ ناخن بڑا ہونا اچھا نہیں کیوں کہ ناخنوں کا بڑاہونا تنگیٔ رِزق کا سبب ہے۔(9)بہارِ شریعت حصہ۱۶ ص۲۲۵

فرشتے خوش نصیبوں کے نام لکھتے ہیں

حضور نبی کریم ﷺ کا اِرشاد رحمت بنیاد ہے:’’جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجِد کے دروازے پر فرشتے آ نے والے کو لکھتے ہیں ، جو پہلے آئے اس کو پہلے لکھتے ہیں ، جلدی آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک اونٹ صدقہ کرتا ہے، اوراس کے بعد آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو ایک گائے صدقہ کرتا ہے، اس کے بعد والا اس شخص کی مثل ہے جومینڈھا صدقہ کرے، پھر اِس کی مثل ہے جو مرغی صدقہ کرے، پھر اس کی مثل ہے جو انڈا صدقہ کرے اورجب امام(10)خطبے کے لیےبیٹھ جاتا ہے تو وہ اعمال ناموں کو لپیٹ لیتے ہیں اورآکر خطبہ سنتے ہیں ۔‘‘(11)صَحیح بُخاری ج۱ص۳۱۹حدیث۹۲۹

حضرتِ مفتی احمد یا ر خان علیہ رحمۃ الحنان فرماتے ہیں : بعض علَماء نے فرمایا کہ ملائکہ جمعہ کی طلوع فَجر سے کھڑے ہوتے ہیں ، بعض کے نزدیک آفتاب چمکنے سے، مگر حق یہ ہے کہ سورج ڈھلنے(12)یعنی ابتدائے وقت ظہرسے شروع ہوتے ہیں کیو نکہ اسی وقت سے وقت جمعہ شروع ہوتا ہے، معلوم ہوا کہ وہ فرِشتے سب آنے والوں کے نام جانتے ہیں ، خیال رہے کہ اگر اوَّلاً سو آدَمی ایک ساتھ مسجِد میں آئیں تو وہ سب اوّل ہیں۔(13)مِراٰۃ ج۲ص۳۳۵

حوالہ جات   [ + ]

اپنا تبصرہ بھیجیں