یہ مسئلہ عموماً لوگوں کو درپیش آتا ہے کہ قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اچھلا کودا جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو گیا اور اس میں کوئی عیب پیدا ہو گیا، اب کیا اس کی قربانی جائز ہوگی؟
ذبح کے وقت قربانی کا جانور زخمی ہونے کا حکم
اس کا حکم یہ ہے کہ یہ عیب نقصان دہ نہیں ہے، بلکہ اس صورت میں قربانی ہو جائے گی۔ اسی طرح، ذبح کے وقت اچھل کود کی وجہ سے عیب پیدا ہو گیا اور جانور چھوٹ کر بھاگ گیا اور اسے فوراً پکڑ کر ذبح کر دیا گیا، تب بھی قربانی ہو جائے گی۔
اہم وضاحت:
لیکن یہ بات واضح رہے کہ یہ مسئلہ اس صورت میں ہے جب ذبح کے وقت اس طرح کا معاملہ ہوا۔ اگر وقتِ ذبح سے پہلے ہی جانور میں کسی بھی وجہ سے مانعِ قربانی عیب پیدا ہو گیا، تو غنی یعنی صاحبِ نصاب کے لیے اس جانور کی قربانی کرنا جائز نہیں ہوگا۔
فقہی دلائل:
درمختار میں لکھا ہوا ہے:
یعنی ذبح کے وقت جانور کے تڑپنے کی وجہ سے عیب پیدا ہو گیا تو وہ مضر نہیں۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
یعنی اور یہی حکم ہے اگر جانور اس حالت میں عیب دار ہو گیا یا چھوٹ کر بھاگ گیا پھر فوراً پکڑ لیا گیا (1)۔
حوالہ جات
| 1↑ | رد المحتار علی الدر المختار، جلد 9، صفحہ 539، مطبوعہ: کوئٹہ |
|---|