مسلمانوں کے درمیان صلح کروانے کی فضیلت

Sulah Karwana

اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے :

لَا خَیۡرَ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنۡ نَّجْوٰىہُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوۡفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بـَیۡنَ النَّاسِ ؕ وَمَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ ابْتَغَآءَ مَرْضَاتِ فَسَوْفَ نُؤْتِیۡہِ اَجْرًا عَظِیۡمًا ﴿۷۴﴾

ترجمۂ کنزالایمان:ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں مگر جو حکم دے خیرات یااچھی بات یا لوگو ں میں صلح کرنے کا اور جو اللہ کی رضا چاہنے کو ایسا کرے اسے عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے۔”
(پ ۵ ،سورۃ النساء :۱۱۴)

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوۡا بَیۡنَ اَخَوَیۡکُمْ ۚ وَ اتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾
ترجمہ کنزالایمان :مسلمان مسلمان بھائی ہیں تواپنے دوبھائیوں میں صلح کرو اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو۔ ”
(پ ۲۶ سورۃ الحجرات :۱۰)

سب سے افضل صدقہ

حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”کیا میں تمہیں روزہ ،نَماز اور صدقہ کے درجہ سے افضل عمل نہ بتاؤں ؟ ” صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:” یا رسول اللہ ﷺ ضرور بتائیے۔”ارشاد فرمایا :”وہ روٹھے ہوؤں میں صلح کرادیناہے کیونکہ روٹھے ہوؤں میں فساد ڈالنا خیر کو کاٹ دیتا ہے”۔
(سنن ابی داؤد ،کتاب الادب، رقم ۴۹۱۹، ج۴، ص ۳۶۵)

جبکہ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے افضل صدقہ روٹھے ہوئے لوگوں میں صلح کرادینا ہے۔”
(التر غیب والترہیب، کتاب الادب ،با ب اصلاح بین الناس ،رقم ۶، ج۳ ،ص ۳۲۱)

اورحضرتِ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”جوشخص لوگوں کے درمیان صلح کرائے گااللہ عزوجل اس کا معاملہ درست فرمادے گا اور اسے ہر کلمہ بولنے پر ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرمائے گا اور وہ جب لوٹے گا تواپنے پچھلے گناہوں سے مغفر ت یافتہ ہوکر لوٹے گا۔”
(التر غیب والتر ھیب، کتاب الادب، باب اصلاح بین الناس، رقم ۹، ج۳ ،ص ۳۲۱)

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبان مسلمانوں میں صلح کروانے میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

اپنا تبصرہ بھیجیں