اسلامی شریعت کے مطابق پانی کے جانوروں میں صرف وہی جانور حلال ہیں جو مچھلی کی جنس سے تعلق رکھتے ہوں۔
جھینگے کے بارے میں فقہی اختلاف
جھینگے کے متعلق علماء کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا یہ مچھلی ہے یا نہیں۔
- جو علماء جھینگے کو مچھلی مانتے ہیں، ان کے نزدیک جھینگا کھانا جائز ہے۔
- اور جو اسے مچھلی تسلیم نہیں کرتے، ان کے نزدیک جھینگا کھانا ناجائز ہے۔
ظاہری شکل اور تحقیق
بظاہر جھینگے کی شکل عام مچھلیوں سے مختلف ہے، یہ ایک قسم کا سمندری کیڑا یا کریسٹیشین معلوم ہوتا ہے۔ تاہم تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ جھینگا ایک قسم کی مچھلی ہے اور اسی بنیاد پر اسے حلال قرار دیا گیا ہے۔
شرعی حکم اور احتیاط
فقہی اختلاف کی موجودگی میں اصولی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ:
- جھینگا کھانا جائز ہے، کیونکہ اسے مچھلی ماننے والے علماء کی رائے مضبوط ہے۔
- البتہ چونکہ اس مسئلے میں علماء کا اختلاف ہے، اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ جھینگے کے کھانے سے اجتناب کیا جائے۔
خلاصہ
شرعی لحاظ سے جھینگا کھانا جائز ہے، تاہم اختلاف کی وجہ سے بچنا بہتر ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں احتیاط کرنا دین داری کی علامت ہے۔