آپ نے پوچھا ہے کہ کیا حاملہ جانور کی قربانی جائز ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حاملہ جانور کی قربانی شرعاً ناپسندیدہ (مکروہ) ہے، لیکن جائز ہے اور قربانی ہو جائے گی۔
حاملہ جانور کی قربانی کا حکم
حاملہ (گھابن) جانور کی قربانی سے بچنا بہتر ہے، تاہم اگر اسے ذبح کر دیا جائے تو قربانی ہو جائے گی۔ البتہ، اگر حمل صرف پندرہ بیس روز کا ہے تو کسی قسم کا کوئی حرج نہیں۔
حمل میں موجود بچے کا حکم:
- اگر بچہ زندہ پیدا ہو تو اسے الگ سے ذبح کرنا ضروری ہو گا۔
- اور اگر بچہ مرا ہوا پیدا ہو تو وہ مردار ہے، اور اسے کھانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
فقہی حوالہ:
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
ترجمہ: “بکری یا گائے بچہ جننے کے قریب ہو، تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کو ذبح کرنا مکروہ ہے۔” (1)
حوالہ جات
| 1↑ | فتاویٰ عالمگیری، کتاب الذبائح، جلد 5، صفحہ 354، مطبوعہ کراچی |
|---|