آپ نے موجودہ زمانے میں رمی، قربانی اور حلق کے حکم کے بارے میں پوچھا ہے۔ دراصل، ان احکام کا وہی حکم ہے جو ہمیشہ سے رہا ہے اور یہ حاجی کی قسم پر منحصر کرتا ہے۔
حاجیوں کی اقسام اور ان کے احکام
حاجی کی تین اقسام ہیں: حج تمتع کرنے والا، حج قران کرنے والا، اور حج افراد کرنے والا۔
- حجِ افراد کرنے والے پر قربانی واجب نہیں ہے۔
- جبکہ حجِ قران اور حجِ تمتع کرنے والے پر قربانی واجب ہے۔
قارن اور متمتع حاجی کے لیے ترتیب:
قارن اور متمتع حاجی سب سے پہلے 10 ذوالحجہ کو یعنی پہلے دن کی رمی اپنے وقت میں کریں گے، پھر قربانی کریں گے اور اس کے بعد حلق یا تقصیر (بال منڈوانا یا کٹوانا) کریں گے۔ ان تینوں اُمور میں ترتیب واجب ہے۔
حجِ افراد والے کے لیے ترتیب:
حجِ افراد والے پر قربانی واجب نہیں ہے، لہٰذا اس پر صرف دو چیزوں میں ہی ترتیب واجب ہے کہ پہلے رمی کرے گا پھر حلق یا تقصیر۔
ترتیب کی خلاف ورزی کا حکم:
- اگر قران یا تمتع والے نے پہلے دن کی رمی، قربانی اور حلق و تقصیر میں ترتیب نہ رکھی تو اس صورت میں اس پر دَم واجب ہوگا۔
- حج افراد کرنے والے پر چونکہ قربانی واجب نہیں، بلکہ اس کے لیے قربانی کرنا مستحب ہے، لہٰذا اگر وہ قربانی کرے تو اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ پہلے رمی، پھر قربانی اور پھر حلق یا تقصیر کرے۔ اور اگر اس نے اس ترتیب کے خلاف کیا یعنی رمی سے پہلے یا حلق کے بعد قربانی کر لی تو بھی اس پر کچھ لازم نہیں ہوگا۔
- البتہ رمی اور حلق میں مُفرِد (حجِ افراد کرنے والے) پر بھی ترتیب واجب ہے، یعنی حج افراد کرنے والا بھی پہلے رمی کرے گا پھر حلق یا تقصیر۔ اگر اس نے ان دو واجبوں میں ترتیب کی خلاف ورزی کی یعنی رمی سے پہلے حلق یا تقصیر کر لیا تو اس پر دَم واجب ہو جائے گا۔