چلنے کی سنتیں اور آداب

چلنے کی سنتیں اور آداب

مدنی سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ زندگی کے ہرشعبہ میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ مسلمان کی چال بھی امتیازی ہونی چاہیے ۔ گر یبان کھول کر ،گلے میں زنجیر سجائے ،سینہ تان کر،قدم پچھاڑ تے ہوئے چلنااحمقوں اور مغروروں کی چال ہے ۔ مسلمانو ں کودرمیانہ اورپُر وقار طریقے پر چلنا چاہيے ۔چلنے کی چند سنّتیں اور آداب ملاحظہ ہوں:
(۱) اگر کوئی رکاوٹ نہ ہو تو درمیانی رفتار سے راستے کے کنارے کنارے چلیں، نہ اتنا تیز کہ لوگوں کی نگاہیں آپ پر جم جائیں اور نہ اتنا آہستہ کہ آپ بیمار محسوس ہوں۔
(۲) لفنگوں کی طرح گریبان کھول کر اکڑتے ہوئے ہرگز نہ چلیں کہ یہ احمقوں اور مغروروں کی چال ہے بلکہ نیچی نظریں کئے پروقار طریقے پر چلیں ۔حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم چلتے تو جھکے ہوئے معلوم ہوتے تھے ۔
(سنن ابو داؤد،کتاب الادب،باب فی ھدی الرجل،الحدیث۴۸۶۳،ج۴،ص۳۴۹)
(۳) راہ چلنے میں پریشان نظری سے بچیں اور سڑک عبور کرتے وقت گاڑیوں والی سمت دیکھ کر سڑک عبور کریں ۔اگر گاڑی آرہی ہو تو بے تحاشا بھاگ نہ پڑیں بلکہ رک جائیں کہ اس میں حفاظت کا زیادہ امکان ہے ۔
اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل !ہمیں پیا رے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق درمیانہ ، تکبر سے بالکل پاک چال چلنے کی تو فیق عطا فرما ۔اور ہمیں راستے کے ایک طرف ،اِدھر اُدھر جھانکے تاکے بغیر سر جھکا کر شریفانہ چال چلنے کی تو فیق مرحمت فرما ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

اپنا تبصرہ بھیجیں