ترجمہ: وہ دونوں مشرقوں کا رب ہے اور دونوں مغربوں کا رب بھی ہے۔ تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (1)
دونوں مشرقوں اور مغربوں سے کیا مراد ہے؟
اس آیتِ مبارکہ میں “دونوں مشرق” اور “دونوں مغرب” سے مراد گرمیوں اور سردیوں کے موسم میں سورج کے طلوع و غروب کے مقامات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سورج ہر دن تھوڑا سا مقام بدل کر طلوع ہوتا ہے، اور اسی طرح مختلف جگہوں سے غروب بھی ہوتا ہے۔
گرمی کے دنوں میں سورج ایک طرف سے طلوع ہوتا ہے اور سردی کے دنوں میں دوسری طرف سے۔ اگرچہ طلوع ہمیشہ مشرق ہی سے ہوتا ہے، لیکن گرمی اور سردی میں مشرق کے مختلف حصے ہوتے ہیں۔ یہی معاملہ مغرب کا ہے۔
قدرت کے نظام کی حکمت
یہ فرق موسموں کے بدلنے، ہوا کے معتدل ہونے، اور ہر موسم کی مخصوص نعمتوں کے پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے۔ یہی دونوں مشرق اور دونوں مغرب دراصل اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نعمتوں کی عظیم نشانی ہیں۔
تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
مختلف موسموں جیسے گرمی، سردی، بہار اور خزاں کا آنا، ان میں انسانی ضروریات کے مطابق نعمتوں کا پیدا ہونا — یہ سب رب تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم احسان ہے۔ اسی لیے فرمایا:
ترجمہ: تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
حوالہ جات
| 1↑ | سورۃ رحمٰن، آیت 17،18 |
|---|