انسان کے تین دشمن اور ان کا آپس میں مکالمہ

انسان کے تین دشمن اور ان کا آپس میں مکالمہ

راہ حق میں اللہ پاک نے جہاں اخروی تیاری کی آسانی کے لئے بندے کو مختلف اسباب مہیا فرمائے وہی بندوں کی آزمائش کی خاطر راہ حق میں رکاوٹ ڈالنے والی کچھ اشیاء بھی پیدا کی گئی ہیں۔ اگر ان رکاوٹوں کا جائزہ لیں تو تین چیزیں سامنے آئیں گی۔
جیسا کہ حضرت سیدنا حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انسان کے تین دشمن ہیں۔

  1. دنیا
  2. نفس
  3. شیطان

(احیاءالعلوم باب الریاضۃ والاخلاق جلد 3، صفحہ 116)

دنیا، نفس اور شیطان کا مکالمہ

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ ”عین الفقر“ میں فرماتے ہیں:” جب اللہ تعالی نے ابلیس کو مرتبہ رحمت سے معزول کرکے اس اسفل السافلین کے مرتبہ لعنت پر بھیجا، مقام علیین سے بے دخل کر کے مقام سجین پر پہنچایا تو ابلیس (شیطان) نفس اور دنیا نے اولاد آدم کو مرتبہ ذلت و ہلاکت پر پہنچانے کا عہد کیا اور ایک دوسرے سے دست بیعت کی۔

ابلیس نے کہا: “میں اولاد آدم کو اطاعت و عبادت سے روک کر معصیت و گناہ کی طرف راغب کروں گا۔”

دنیا نے کہا: ”میں خود کو ان کی نظروں میں آراستہ کرکے انہیں اپنی جانب مائل کروں گی اور انہیں حرص و بلا میں مبتلا کر کے ہلاک کروں گی اور خدا تعالی سے دور کروں گی۔“

نفس نے کہا: “میں انہیں خواہشات اور شہوات میں دیوانہ کرکے نظر یاری سے گمراہ کروں گا۔”

لہذا معرفت الہی عزوجل کے طالب کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تینوں کو ان کے افعال سے پہچانے اور خود کو ناشائستہ افعال سے باز رکھے۔“

(عین الفقر باب چہارم صفحہ 191)

اپنا تبصرہ بھیجیں