فتح مکہ کی پیش گوئی

فتح مکہ

ہجرت کے وقت انتہائی رنجیدگی کے عالم میں حضور تاجدار ِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے یار ِ غار صدیق جاں نثار رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر رات کی تاریکی میں مکہ سے ہجرت فرماکر اپنے وطن عزیز کو خیرباد کہہ دیا تھا اور مکہ سے نکلتے وقت خدا کے مقدس گھر خانہ کعبہ پر ایک حسرت بھری نگاہ ڈال کر یہ فرماتے ہوئے مدینہ روانہ ہوئے تھے کہ ”اے مکہ! خدا کی قسم! تو میری نگاہِ محبت میں تمام دنیا کے شہروں سے زیادہ پیارا ہے۔ اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں ہرگز تجھے نہ چھوڑتا۔”اس وقت کسی کو یہ خیال بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ مکہ کو اس بے سروسامانی کے عالم میں خیرباد کہنے والا صرف آٹھ ہی برس بعد ایک فاتح اعظم کی شان و شوکت کے ساتھ اسی شہر مکہ میں نزولِ اجلال فرمائے گا اور کعبۃ اللہ میں داخل ہو کر اپنے سجدوں کے جمال و جلال سے خدا کے مقدس گھر کی عظمت کو سرفراز فرمائے گا۔ لیکن ہوا یہ کہ اہل مکہ نے صلح حدیبیہ کے معاہدہ کو توڑ ڈالا۔ اور صلح نامہ سے غداری کر کے ”عہد شکنی” کے مرتکب ہو گئے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حلیف بنو خزاعہ کو مکہ والوں نے بے د ردی کے ساتھ قتل کردیا۔ بے چارے بنو خزاعہ اس ظالمانہ حملے کی تاب نہ لا کر حرم کعبہ میں پناہ لینے کے لئے بھاگے تو ان درندہ صفت انسانوں نے حرم الٰہی کے احترام کو بھی خاک میں ملا دیا اور حرم کعبہ میں بھی ظالمانہ طور پر بنو خزاعہ کا خون بہایا۔ اس حملہ میں بنو خزاعہ کے تئیس آدمی قتل ہو گئے۔ اس طرح اہل مکہ نے اپنی اس حرکت سے حدیبیہ کے معاہدہ کو توڑ ڈالا۔ اور یہی فتح مکہ کی تمہید ہوئی۔
چنانچہ ۱۰ رمضان ۸ھ ؁کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے دس ہزار لشکر پرانوار ساتھ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مدینہ سے چلتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ کرام روزہ دار تھے لیکن جب آپ مقام ”کدید” میں پہنچے تو پانی مانگا اور اپنی سواری پر بیٹھے ہوئے پورے لشکر کو دکھا کر آپ نے پانی نوش فرمایا اور سب کو روزہ چھوڑ دینے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ آپ اور آپ کے اصحاب نے سفر اور جہاد میں ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنا موقوف کردیا۔

(بخاری شریف، کتاب المغازی، باب غزوۃ الفتح فی رمضان، رقم ۴۲۷۶، ج۵، ص ۱۴۶)

غرض فاتحانہ شان و شوکت کے ساتھ بانی کعبہ کے جانشین حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے سرزمین مکہ میں نزول اجلال فرمایا اور حکم دیا کہ میرا جھنڈا مقام ”حجون”(جنۃ المعلیٰ) کے پاس گاڑا جائے اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے نام فرمان جاری کردیا کہ وہ فوجوں کے ساتھ مکہ کے بالائی حصہ یعنی ”کدا” کی طرف سے مکہ میں داخل ہوں۔

(بخاری شریف،کتاب المغازی،باب این رکزالنبی صلی اللہ علیہ وسلم…الخ،رقم۴۲۸۰،ج۵،ص ۱۴۷)

تاجدارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کی سرزمین میں قدم رکھتے ہی جو پہلا فرمان شاہی جاری فرمایا وہ یہ اعلان تھا کہ جس کے لفظ لفظ میں رحمتوں کے دریا موجیں ماررہے ہیں:
”جو شخص ہتھیار ڈال دے گا اُس کے لئے امان ہے۔ جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے گا اُس کے لئے امان ہے جو کعبہ میں داخل ہوجائے گا اس کے لئے امان ہے۔”

اس موقع پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! ابو سفیان ایک فخر پسند آدمی ہے اس کے لئے کوئی ایسی امتیازی بات فرما دیجئے کہ اس کا سر فخر سے اونچا ہوجائے تو آپ نے فرمایا کہ ”جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اس کے لئے امان ہے۔”
حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہونے لگے تو آپ اپنی اونٹنی ”قصواء”پر سوار تھے اور آپ ایک سیاہ رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے۔ اور بخاری میں ہے کہ آپ کے سر پر ”مغفر”تھا۔ آپ کے ایک جانب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دوسری جانب اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ تھے اور آپ کے چاروں طرف جوش میں بھرا ہوا ہتھیاروں میں ڈوبا ہوا لشکر تھا جس کے درمیان کوکبہ نبوی تھا۔ اس شاہانہ جلوس کے جاہ و جلال کے باوجود شہنشاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تواضع کا یہ عالم تھا کہ آپ سورہ فتح کی تلاوت فرماتے ہوئے اس طرح سر جھکائے ہوئے اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کا سر اونٹنی کے پالان سے لگ لگ جاتا تھا۔ آپ کی یہ کیفیت تواضع خداوند ِ قدوس کا شکر ادا کرنے اور اس کی بارگاہ ِ عظمت میں اپنی عجز و نیازمندی کا اظہار کرنے کے لئے تھی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہونے لگے تو آپ اپنی اونٹنی ”قصواء”پر سوار تھے اور آپ ایک سیاہ رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے۔ اور بخاری میں ہے کہ آپ کے سر پر ”مغفر”تھا۔ آپ کے ایک جانب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دوسری جانب اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ تھے اور آپ کے چاروں طرف جوش میں بھرا ہوا ہتھیاروں میں ڈوبا ہوا لشکر تھا جس کے درمیان کوکبہ نبوی تھا۔ اس شاہانہ جلوس کے جاہ و جلال کے باوجود شہنشاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تواضع کا یہ عالم تھا کہ آپ سورہ فتح کی تلاوت فرماتے ہوئے اس طرح سر جھکائے ہوئے اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کا سر اونٹنی کے پالان سے لگ لگ جاتا تھا۔ آپ کی یہ کیفیت تواضع خداوند ِ قدوس کا شکر ادا کرنے اور اس کی بارگاہ ِ عظمت میں اپنی عجز و نیازمندی کا اظہار کرنے کے لئے تھی۔ (زرقانی، ج ۲،ص ۳۲۰۔ ۳۲۱)

بیت اللہ میں داخلہ:۔پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر اور حضرت اُسامہ بن زید کو اونٹنی کے پیچھے بٹھا کر مسجد حرام کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہ کعبہ کے کلید بردار بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے مسجد حرام میں اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور کعبہ کا طواف کیا اور حجر ِ اسود کو بوسہ دیا۔

(بخاری شریف، کتاب المغازی، باب دخول النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اعلیٰ مکۃ، رقم ۴۲۸۹،ج۵،ص۱۴۸۔۱۴۹)

کعبہ کے اندرونِ حصار تین سو ساٹھ بتوں کی قطار تھی۔ آپ خود بہ نفس نفیس ایک چھڑی لے کر کھڑے ہوئے اور ان بتوں کو چھڑی کی نوک سے ٹھونکے مار مار کر گراتے جاتے تھے۔ اور ”جَآءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ ” کی آیت تلاوت فرماتے تھے۔ یعنی حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل مٹنے ہی کی چیز تھی۔

(بخاری شریف، کتاب المغازی، باب این رکز النبی صلی اللہ علیہ وسلم الرایۃ یوم الفتح، رقم الحدیث ۴۲۸۷، ج۵، ص ۱۴۸ )

پھر ان بتوں کو جو عین کعبہ کے اندر تھے آپ نے ان سب کو نکالنے کا حکم فرمایا۔ جب تمام بتوں سے کعبہ پاک ہو گیا تو آپ اپنے ساتھ اُسامہ بن زید اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور تمام گوشوں پر تکبیر پڑھی اور دو رکعت نماز بھی پڑھی۔

(بخاری، ج ۱،ص ۲۱۸ و بخاری، ج ۲، ص ۶۱۴)

کعبہ مقدسہ کے اندر سے جب آپ باہر نکلے تو حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلا کر کعبہ کی کنجی ان کے ہاتھ میں عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ

خُذُوْھَا خَالِدَۃً تَالِدَۃً لاَّیَنْزَعُھَا مِنْکُمْ اِلاَّ ظَالِمُ (زرقانی، ج ۲، ص ۲۳۹)

شہنشاہ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دربارِعام:۔اس کے بعد حرم الٰہی میں آپ نے سب سے پہلا دربار عام منعقد فرمایا جس میں افواج اسلام کے علاوہ ہزاروں کفار و مشرکین کے عوام و خواص کا ایک زبردست اژدھام تھا۔ اس دربار میں آپ نے ایک خطبہ دیا اور پھر اہل مکہ کو مخاطب کر کے آپ نے فرمایا کہ بولو، تم کو معلوم ہے کہ آج میں تم سے کیا معاملہ کرنے والا ہوں۔
اس دہشت انگیز اور خوفناک سوال سے تمام مجرمین حواس باختہ ہو کر کانپ اٹھے، لیکن جبینِ رحمت کے پیغمبرانہ تیور کو دیکھ کر سب یک زبان ہو کر بولے ”اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ” یعنی آپ کرم والے بھائی اور کرم والے باپ کے بیٹے ہیں۔ یہ سن کر فاتح مکہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کریمانہ لہجے میں ارشاد فرمایا کہ:۔

لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ فَاذْھَبُوْا اَنْتُمُ الطَّلَقَاءُ

آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔ جاؤ تم سب آزاد ہو۔

( شرح الزرقانی، باب غزوۃ الفتح الأعظم ،ج۳،ص۴۴۹)

بالکل غیر متوقع طو رپر ایک دم اچانک یہ فرمان رحمت سن کر سب مجرموں کی آنکھیں فرط ِ ندامت سے اشکبار ہو گئیں۔ اور کفار کی زبانوں پر لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ کے نعروں سے حرم کعبہ کے در و دیوار پر بارش انوار ہونے لگی۔ مجرموں کی نظر میں ناگہاں ایک عجیب انقلاب برپا ہو گیا کہ سماں ہی بدل گیا۔ فضا ہی پلٹ گئی۔ اور ایک دم ایسا محسوس ہونے لگا کہ

جہاں تاریک تھا ظلمت کدہ تھا سخت کالا تھا
کوئی پردے سے کیا نکلا گھر گھر اجالا تھا

فتح مکہ کی تاریخ:۔ اس میں بڑا اختلاف یہ ہے کہ مکہ مکرمہ کون سی تاریخ میں فتح ہوا؟ امام بیہقی نے ۱۳ رمضان ،امام مسلم نے ۱۶ رمضان ،امام احمد نے ۱۸ رمضان بتایا، مگر محمد بن اسحٰق نے اپنے مشائخ کی ایک جماعت سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ ۲۰ رمضان ۸ ھ کو مکہ فتح ہوا۔ (واللہ تعالیٰ اعلم)

(شرح الزرقانی، باب غزوۃ الفتح الأعظم ،ج۳،ص۳۹۶۔۳۹۷)

فتح مکہ کی پیشین گوئیاں اور بشارتیں قرآن کریم کی چند آیتوں میں مذکور ہیں ان میں سے سورہ نصر بھی ہے۔ چنانچہ خداوند ِ کریم نے ارشاد فرمایا:۔

اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللہِ وَ الْفَتْحُ ۙ﴿1﴾وَ رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدْخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللہِ اَفْوَاجًا ۙ﴿2﴾فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَ اسْتَغْفِرْہُ ؕؔ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا ٪﴿3﴾
(پ30،النصر:1۔3)

ترجمہ کنزالایمان:۔جب اللہ کی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے ہیں تو اپنے رب کی ثناء کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہو بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
درسِ ہدایت:۔فتح مکہ کے واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر عفو و درگزر اور رحم و کرم کا جو اعلان و اظہار فرمایا تاریخ عالم میں کسی فاتح کی زندگی میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔
غور فرمایئے کہ اشرافِ قریش کے ان ظالموں اور جفاکاروں میں وہ لوگ بھی تھے جو بارہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر کی بارش کرچکے تھے ، وہ خونخوار بھی تھے جنہوں نے بارہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قاتلانہ حملے کئے تھے، وہ بے رحم و بے درد بھی تھے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک کو شہید، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کو لہولہان کرڈالا تھا۔ وہ اوباش بھی تھے جو برسہا برس تک اپنی بہتان تراشیوں اور شرمناک گالیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک کو زخمی کرچکے تھے۔ وہ سفاک اور درندہ صفت بھی تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں چادر کا پھندا ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھونٹ چکے تھے۔ وہ ظلم و ستم کے مجسمے، اور پاپ کے پتلے بھی تھے، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو نیزہ مار کر اونٹ سے گرا دیا تھا اور ان کا حمل ساقط ہو گیا تھا۔ وہ جفاکار و خونخوار بھی تھے جن کے جارحانہ حملوں اور ظالمانہ یلغار سے بار بار مدینہ کے در و دیوار ہل چکے تھے۔ وہ ستم گار بھی تھے جنہوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا اور اُن کی ناک کان کاٹنے والے، ان کی آنکھیں پھوڑنے والے، ان کا جگر چبانے والے بھی اس مجمع میں موجود تھے۔ وہ بے رحم بھی تھے جنہوں نے شمع نبوت کے جاں نثار پر وانوں حضرت بلال، حضرت صہیب، حضرت عمار، حضرت خباب، حضرت خبیب، حضرت زید بن دشنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو رسیوں سے باندھ باندھ کر کوڑے مار مار کر جلتی ریتوں پر لٹایا تھا، کسی کو آگ کے دہکتے ہوئے کوئلوں پر سلایا تھا، کسی کو سولی پر لٹکا کر شہید کردیا تھا۔ یہ تمام جور و جفا اور ظلم و ستم گاری کے پیکر ،جن کے جسم کے رونگٹے رونگٹے اور بدن کے بال بال، ظلم و عدوان اور سرکشی و طغیان کے وبال سے شرمناک مظالم اور خوفناک جرموں کے پہاڑ بن چکے تھے، آج یہ سب کے سب دس بارہ ہزار مہاجرین و انصار کے لشکر کی حراست میں مجرم بنے ہوئے کھڑے کانپ رہے تھے اور اپنے دلوں میں یہ سوچ رہے تھے کہ شاید آج ہماری لاشوں کو کتوں سے نچوا کر ہماری بوٹیاں چیلوں اور کوؤں کو کھلا دی جائیں گی اور انصار و مہاجرین کی غضب ناک فوجیں ہمارے بچے بچے کو خاک و خون میں ملا کر ہماری نسلوں کو نیست و نابود کر ڈالیں گی اور ہماری بستیوں کو تاخت و تاراج کر کے تہس نہس کردیں گی ،مگر ان سب مجرمین کو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر معاف فرما دیا کہ انتقام تو کیسا؟ بدلا تو کہاں کا؟ آج تم پر کوئی ملامت بھی نہیں۔ اے آسمان بول! اے زمین بتا! اے چاند و سورج تم بولو! کیا تم نے روئے زمین پر ایسا فاتح اور رحم دل شہنشاہ کبھی دیکھا ہے؟ یا کبھی سنا ہے؟ سن لو تمہارے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سوا اور کوئی فاتح نہ ہوا ہے نہ ہوگا۔ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر کمال میں بے مثل و بے مثال ہیں۔
مسلمانو!یہ ہے ہمارے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوئہ حسنہ اور سیرت مبارکہ۔ لہٰذا ہم مسلمانوں پر لازم ہے کہ اپنے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوئہ حسنہ اور سیرت مقدسہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے دشمنوں سے بدلہ اور انتقام لینے کا جذبہ اپنے دل سے نکال کر اپنے دشمنوں کو درگزر کرنے اور معاف کردینے کی کوشش کریں۔ کیونکہ لوگوں کی تقصیرات اور خطاؤں کو معاف کردینا، یہ ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے اور یہی امت کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم بھی ہے۔ جیسا کہ آپ گزشتہ صفحات میں یہ حدیث پڑھ چکے ہیں کہ ”صِلْ مَنْ قَطَعَکَ وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَکَ وَاَحْسِنْ اِلٰی مَنْ اَسَاءَ کَ” یعنی جو تم سے تعلق کاٹے تم اس سے میل ملاپ رکھو اور جو تم پر ظلم کرے اس کو معاف کردیا کرو اور جو تمہارے ساتھ بدسلوکی کرے تم اس کے ساتھ احسان اور اچھا سلوک کرو اور قرآن مجید میں بھی عفوِتقصیر اور دشمنوں سے درگزر کردینے والوں کے بڑے بڑے درجات و مراتب بیان کئے گئے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

”وَالْعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ ” (پ4،اٰل عمران:134)

یعنی لوگوں کی خطاؤں کو معاف کردینے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ہیں اور بڑے درجات والے ہیں۔ خداوند کریم ہر مسلمان کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوئہ حسنہ اور سیرت مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں