بے شک ہرن ایک حلال جانور ہے اور اس کا گوشت کھانا جائز ہے۔ مسلمانوں میں چودہ سو سال سے اس کا شکار کیا جاتا ہے اور اس کا گوشت نہایت لذیذ سمجھا جاتا ہے۔
ہرن کے گوشت کے علاوہ اس کے جسم سے حاصل ہونے والی کستوری (مشک) بھی اسلامی اعتبار سے جائز اور پاک ہے، بشرطیکہ وہ نافے سے حاصل کی گئی ہو اور اس کی شرعی صورت پوری کی گئی ہو۔
ہرن کے گوشت کے حلال ہونے کا اجماعی حکم
اس حوالے سے مشہور فقہی کتاب الفتاوی الہندیہ میں درج ہے:
ہرن کے نافے سے حاصل شدہ کستوری کا حکم
ہرن کے پیٹ سے نکلنے والی خوشبودار چیز یعنی نافہ اور اس میں موجود مشک کے پاک ہونے پر بھی فقہی کتب میں وضاحت موجود ہے۔
خلاصہ
ہرن کا گوشت اور نافے سے حاصل کی گئی مشک (کستوری) دونوں شریعت کے مطابق پاک اور حلال ہیں۔ ہرن کا شکار کرنا جائز ہے اور اس کا گوشت کھایا جا سکتا ہے، جب کہ کستوری کو خوشبو کے طور پر استعمال کرنا بھی شرعاً جائز ہے۔