مال حرام حاصل ہونے کی مختلف صورتیں ہیں۔ کچھ صورتوں میں تو وہ مال حرام لینے والے کی ملکیت ہی میں نہیں آتا بلکہ دینے والے کی ملکیت میں باقی رہتا ہے جیسے جوا، رشوت وغیرہ۔ ایسے مال کا حکم یہ ہے کہ مالک کو واپس کرنا ضروری ہے۔
لہٰذا جب ملکیت ہی میں نہیں ہے تو اس سے قرض ادا ہی نہیں ہوسکتا اور قرض میں دینا بھی حرام ہے۔
اور کچھ صورتوں میں مال حرام لینے والے کی ملکیت میں آ تو جاتا ہے جب اس کے قبضہ میں آجائے مگر وہ ملکیت خبیث ہوتی ہے اور اس میں تصرف کرنا ناجائز ہوتا ہے یعنی اس کو اپنے کاموں میں خرچ کرنا ناجائز ہوتا ہے جیسے سود۔
ایسے مال حرام کا حکم یہ ہے کہ اسے اپنی ملکیت سے نکالنا واجب ہے، اب چاہے جس سے لیا ہے اسے واپس کرے یا فقیر کو دے دے مگر ثواب کی نیت نہیں کر سکتا۔
لہٰذا اس مال کو بھی جب استعمال کرنا ناجائز ہے تو اس سے قرض ادا کرنا بھی ناجائز ہے۔