شوقیہ طور پر حلال جانور جیسے بکری، یا حلال پرندے جیسے طوطہ، تیتر، بٹیر اور کبوتر وغیرہ پالنا شرعاً جائز ہے، لیکن اس کی کچھ اہم شرائط ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے:
جانور یا پرندہ پالنے کی شرائط
- خوراک اور پانی کی کمی نہ ہو: جانور یا پرندہ پالنے والے پر لازم ہے کہ وہ اس کے کھانے پینے کا مکمل انتظام کرے۔ اگر دن میں کئی مرتبہ کھلانا یا پلانا پڑے، تب بھی اس کی ضرورت پوری کرنا واجب ہے۔
- کھیل تماشے کے لیے نہ پالے: جانوروں کو دوڑانے یا پرندوں کو صرف اُڑانے کی نیت سے پالنا ایک طرح کا لہو و لعب ہے جس کی شریعت میں اجازت نہیں۔
- لڑانا یا ظلم کرنا منع ہے: جانوروں یا پرندوں کو آپس میں لڑانا یا ان پر ظلم کرنا شرعاً حرام ہے۔ ان کی حفاظت، آرام اور صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- ناجائز کام میں استعمال نہ ہو: کسی بھی حلال جانور یا پرندے کو کسی غلط، حرام یا مکروہ مقصد کے لیے استعمال کرنا ممنوع ہے۔
بلی پالنے کا حکم
بلی پالنا شرعاً جائز ہے بشرطیکہ اس کا مکمل خیال رکھا جائے، اسے بھوکا یا پیاسا نہ رکھا جائے اور اسے تکلیف نہ دی جائے۔ مشہور صحابی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بلی پالنا ثابت ہے۔ درحقیقت “ابو ہریرہ” کا معنی ہی “چھوٹی بلی والا” ہے۔
ظلم کرنے والوں کے لیے وارننگ
جو لوگ جانور یا پرندے پالنے کا شوق تو رکھتے ہیں مگر انہیں کھانا پینا مکمل نہیں دیتے، ان پر ظلم کرتے ہیں، ایذا پہنچاتے ہیں — ان کے لیے سخت تنبیہ ہے کہ روزِ قیامت یہ بے زبان جانور ان کے خلاف گواہی دیں گے۔
رحم کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ شریعت نے جانوروں کے حقوق کو بھی انسانوں کے برابر اہمیت دی ہے۔