اگر کوئی شخص مسجد الحرام کے باہر سے بیت اللہ شریف کا طواف کرے تو اس کا طواف ادا نہیں ہوگا، کیونکہ شریعت میں طواف کے لیے شرط ہے کہ وہ مسجد الحرام کے اندر ہی ادا کیا جائے۔
حطیم کے اندر سے طواف کا حکم
اگر کوئی شخص حطیم کے اندر سے گزر کر طواف کرے تو یہ طریقہ ناجائز ہے، کیونکہ حطیم بھی بیت اللہ کا حصہ ہے اور طواف پورے بیت اللہ کے باہر سے ہونا ضروری ہے۔
لہٰذا اگر کسی نے حطیم کے اندر سے طواف کیا ہو تو اس پر واجب ہے کہ اس طواف کا اعادہ کرے۔ بہتر یہ ہے کہ پورے طواف کا اعادہ کیا جائے، لیکن اگر صرف حطیم کے حصے کا طواف سات بار صحیح طریقے سے (یعنی حطیم کے باہر سے) کر لیا تو وہ بھی کافی ہوگا۔
نیت کی اہمیت
نیت طواف میں فرض ہے۔ اگر نیت نہ کی تو طواف نہیں ہوگا۔ تاہم، یہ شرط نہیں کہ کسی معین طواف کی نیت کرے۔
مثلاً:
- اگر عمرہ کا احرام باندھ کر طواف کیا تو یہ عمرہ کا طواف ہوگا، خواہ نیت نہ کی ہو۔
- حج کا احرام باندھ کر کیا گیا طواف، طوافِ قدوم کہلائے گا۔
- دسویں ذی الحجہ کو کیا گیا طواف، طوافِ زیارت ہوگا، چاہے نیت کچھ اور ہو۔
مقامِ ابراہیم پر دو رکعت نماز
طواف مکمل ہونے کے بعد مقامِ ابراہیم} کے پاس آ کر قرآن کی یہ آیت پڑھنا سنت ہے:
اور مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔ (البقرہ: 125)
پھر وہاں دو رکعت نماز واجب ہے:
- پہلی رکعت میں قُلْ یٰاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ
- دوسری رکعت میں قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ پڑھنا افضل ہے۔
یہ نماز وقتِ کراہت (طلوعِ شمس، دوپہر، غروبِ آفتاب) میں نہ پڑھی جائے بلکہ بعد میں ادا کی جائے۔