Gheebat aur Bohtan

غیبت کرنا اور بہتان لگانا

غیبت سے مراد یہ ہے کہ اپنے زندہ یا مردہ مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے پوشیدہ عیوب کو (جن کا دوسروں کے سامنے ظاہر ہونااُسے ناپسند ہو) اس کی برائی کے طور پر ذکر کیا جائے ،اور اگر وہ بات اس میں موجود نہ ہوتو اسے بہتان کہتے ہیں ۔مثلاً ، ”مجھے بے وقوف بنا رہا تھا ” ،”اس کی نیت خراب ہے ”،”ڈرامہ باز ہے ”وغیرہ
(ماخوذ از بہارِ شریعت،حصہ ۱۶،ص۶۴۵)

رسول ِ اکرم صلي اللہ عليہ وسلم نے دریافت فرمایا:” تمہیں معلوم ہے غیبت کیا چیزہے؟” لوگوں نے عرض کی:” اللہ ورسول عزوجل و صلي اللہ عليہ وسلم کو اس کا بہتر علم ہے۔” ارشاد فرمایا:” غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کے بارے میں ایسی بات کہو جو اسے بری لگے۔ ”کسی نے عرض کی:” اگر میرے بھائی میں وہ برائی موجود ہو تو اس کو بھی کیا غیبت کہا جائے گا؟” ارشاد فرمایا:” جو کچھ تم کہتے ہو اگر اس میں موجود ہو جبھی تو غیبت ہے اور اگر تم ایسی بات کہو جو اس میں موجود نہ ہو تو یہ بہتان ہے۔”
( مسلم،کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الغیبۃ،رقم ۲۵۸۹،ص۱۳۹۷)

پیارے مسلمان بھائیو !غیبت اس قدر بُرا کام ہے کہ اسے اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے ،چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

وَلَا یَغْتَبۡ بَّعْضُکُمۡ بَعْضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ

ترجمہ کنزالایمان :اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی یہ پسند رکھے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے، تو یہ تمہیں گوارا نہ ہو گا۔
(پ۲۶،الحجرات:۱۲)

افسوس

افسوس صد افسوس ! آج مسلمانانِ عالم کی اکثریت زبان کی اس آفت میں مبتلاء ہے ۔ شاید ہی کوئی مجلس اس گناہ کے ارتکاب سے خالی ہوتی ہو ،محض وقت گزاری کی خاطر کسی غائب شخص کو ہدف بنا کر اس کی خوب غیبت کی جاتی ہے پھر اگر اس شخص کو اس کی خبر ہو جائے تو وہ بھی جوابی کاروائی کے طور پر اپنی غیبت کرنے والوں کی غیبت کرتا ہے اور یوں گناہوں کا بازار گرم ہونے کے ساتھ ساتھ گھر گلی اور محلہ میدانِ کارزار کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات غیبت کرنے کے باوجود اسے غیبت تسلیم کرنے سے بھی انکار کردیا جاتا ہے جسے علمائے کرام نے کفر قرار دیا ہے چنانچہ صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ بہارشریعت حصہ ۱۶ ص۶۴۶ پر نقل فرماتے ہیں کہ ”ایک شخص غیبت کررہا ہے ،اس سے کہا گیا کہ غیبت نہ کرو، وہ کہنے لگا :یہ غیبت نہیں میں سچا ہوں ۔”تو یہ کفر ہے کیونکہ اس شخص نے ایک حرام حلال بتایا الخ ۔ لیکن یادر ہے کہ کہنے والا اسی صورت میں کافر ہوگا جب اسے غیبت کے حرامِ قطعی ہونے کا علم ہو اور وہ غیبت کی تعریف بھی جانتا ہو ۔

(ماخوذ از رسالہ” غیبت کی تباہ کاریاں” ،ص۱۵)

پیارے اسلامی بھائیو!

غیبت کرنے والے کو آخرت میں اپنی زبان کی بے احتیاطی کا وبال بھگتنا پڑے گا ،جیسا کہ
(1) سرکارِ دو عالم صلي اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” میں نے معراج کی رات میں لوگوں کو اس حال میں دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنے ناخنوں سے اپنے چہروں کو نوچ رہے ہیں، میں نے حضرت جبرائیل ں سے پوچھا :” یہ کون لوگ ہیں؟ ”تو انہوں نے بتایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں لوگوں کی غیبت اور آبروریزی کیا کرتے تھے۔ ”
(سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ،باب فی الغیبۃ،رقم۴۸۷۸ ج۴،ص۳۵۳)

(2) حضرتِ سیدناابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرورِ کونین صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن ایک شخص کو اسکا نامۂ اعمال پڑھنے کیلئے دیا جائے گا ،وہ اسے دیکھ کر کہے گا:” اے میرے رب !میری فلاں فلاں نیکیاں کہاں ہیں جومیں نے کی تھیں؟ ” رب تعالیٰ فرمائے گا کہ” لوگوں کی غیبت کرنے کی وجہ سے میں نے تیرے نامۂ اعمال سے وہ نیکیاں مٹا دی ہیں۔ ”
(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب ، رقم الحدیث ۳۰،ج۳،ص۳۳۲)

(3) حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ”جو دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت کھاتاہے بروزِ قیامت وہ گوشت اسکے پاس لایا جائے گا اورکہا جائے گا ، اس مردے کے گوشت کو اسی طرح کھاؤجس طرح اسکی زندگی میں اس کا گوشت کھاتے تھے ۔ جب وہ اس حکم کی وجہ سے کھائے گا توپریشان ہوجائے گا اورچیختا رہے گا۔”
(مجمع الزوائد ، کتاب الادب ، رقم الحدیث ۱۳۱۲۹،ج۸،ص۱۷۳)

پیارے مسلمان بھائیو! ہم میں سے ہر ایک کو چاہے کہ وہ ان اخروی پریشانیوں سے بچنے کے لئے غیبت سے مکمل پرہیز کرے اور سابقہ زندگی میں کی گئی غیبت کی معافی طلب کرے اور اگر اس شخص کو غیبت کی خبر ہوچکی ہو جس کی غیبت کی تھی تو اس سے بھی معافی مانگنا ضروری ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم

This post has been Liked 0 time(s) & Disliked 0 time(s)

اپنا تبصرہ بھیجیں