صلاۃ التسبیح نفل نماز ہے۔ اور نفل کی نیت کے متعلق یہ اصول ہے کہ نفل کی نماز میں ایک سے زیادہ بھی نیتیں کر سکتے ہیں اور اس سے سب کا ثواب ملے گا۔
صلاۃ التسبیح میں ایک سے زائد نیتیں کرنے کا حکم
جیسے عشاء کی نماز کے بعد نیند کر کے پھر صلاۃ التسبیح پڑھتے ہوئے تہجد کی بھی نیت کرے تو ان شاءاللہ عزوجل دونوں کا ثواب ملے گا۔
فقہی حوالہ
اس حوالے سے حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں لکھا ہوا ہے:
ترجمہ: “ایسے ہی اگر کسی نے دو یا زیادہ نوافل کی نیت کی تو اس طرح نیت صحیح ہے جیسا کہ اس نے (دو نفل) میں تحیۃ المسجد، تحیۃ الوضو، چاشت اور سورج گرہن کی نماز کی نیت کی (تو سب کا ثواب پائے گا)۔” (1)
صلوٰۃ التسبیح کا ثواب
اس نماز میں بے انتہا ثواب ہے، نبی کریم ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے چچا! کیا میں تم کو عطا نہ کروں، کیا میں تم کو بخشش نہ کروں، کیا میں تم کو نہ دوں، تمہارے ساتھ احسان نہ کروں، دس خصلتیں ہیں کہ جب تم کرو تو اللہ پاک تمہارے گناہ بخش دے گا، اگلا پچھلا، پرانا، نیا، جو بھول کر کیا، جو قصداً کیا، چھوٹا اور بڑا، پوشیدہ اور ظاہر، اس کے بعد صلوۃ التسبیح کا طریقہ سکھایا، پھر فرمایا: اگر تم سے ہوسکے کہ ہر روز ایک بار پڑھو تو کرو اور اگر روز نہ کرو تو ہر جمعہ میں ایک بار، یہ بھی نہ کرو تو ہر مہینہ میں ایک بار اور یہ بھی نہ کرو تو سال میں ایک بار اور یہ بھی نہ کرو تو عمر میں ایک بار۔ (2)