قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر۔(1)
یعنی گزشتہ ایماندار اُمتوں میں سے ہر امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک قربانی مقرر فرمائی تاکہ وہ جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں۔
قربانی کا سلسلہ کب سے شروع ہوا؟
اگر تفصیلی طور پر تاریخ کا مطالعہ کریں تو تمام آسمانی مذاہب میں قربانی کا تذکرہ ملتا ہے بلکہ جو مذاہب آسمانی نہیں بھی ہیں ان میں بھی چند ایک کے علاوہ قربانی کا بیان تقریباً سب میں موجود ہے۔ قرآن مجید میں ہر امت میں قربانی کا حکم بیان کرنے کے علاوہ مختلف امتوں کے احوال کے بیان میں بھی قربانی کا ذکر کیا گیا ہے۔
تاریخی اور قرآنی دلائل:
- جیسے سورہ مائدہ:27 میں زمانۂ آدم علیہ السلام میں ہابیل و قابیل کا واقعہ قربانی کے حوالے سے موجود ہے۔
- موجودہ بائبل میں قربانی کا تذکرہ موجود ہے، قربانیوں کا اہتمام ان کے علماء کی اہم ذمہ داریوں میں سے تھا اور قربانی کا معاملہ ان میں اس حد تک معروف و مقبول تھا کہ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے لیے بھی اسی کی شرط رکھی تھی جیسا کہ سورہ آل عمران:183 میں ہے۔
- دینِ ابراہیمی میں جو دینِ اسلام کی اصل ہے، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حج کا اعلان کرنے کا حکم دیا گیا تو ساتھ ہی حج کی قربانی اور اس کے فوائد و منافع بھی بیان کیے گئے جیسا کہ سورہ حج:27,28 میں ہے۔
اور دینِ اسلام اُسی دینِ ابراہیمی کا تسلسل ہے تو اس میں قربانی کے احکام موجود ہونا بالکل واضح ہے۔ حج خصوصاً عید الاضحیٰ کی قربانی سے مسلمانوں کا بچہ بچہ آگاہ ہے۔
دینِ اسلام میں قربانی کی پانچ قسمیں ہیں:
- وہ جو مناسکِ حج میں سے ہے جسے ہدی کہا جاتا ہے، اس کا بیان سورۃ المائدہ:97 میں ہے۔
- حج تمتع یا قران والے پر واجب ہے جو سورۃ البقرہ:196 میں مذکور ہے۔
- جو کفارے کے طور پر ہو جیسے احصار یا جنایت۔ اس کا ذکر سورۃ البقرہ:196 میں ہے۔
- عید الاضحیٰ کی قربانی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں ہے۔ اس کا ذکر سورۃ الکوثر میں ہے۔
- عقیقہ ہے جو بچے کی پیدائش کی خوشی میں شکرِ الٰہی بجالانے کے لیے کیا جاتا ہے اور یہ احادیث سے ثابت ہے۔
حوالہ جات
| 1↑ | حج : 34 |
|---|