قبل از وقت عصر پڑھنا شرعی طور پر ناقابل قبول ہے
ہر نماز کا ایک مقررہ وقت ہے، اور وقت سے پہلے وہ نماز ادا نہیں ہو سکتی۔ اس حوالے سے حدیث بخاری میں آتا ہے کہ:
حَتّىٰ سَاوَى الظِّلُّ التِّلَالَ
حتیٰ کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہو گیا، تب جا کر رسول اللہ ﷺ نے اذان کی اجازت دی۔(1)
علمائے شوافع کے مطابق، ٹیلوں کا سایہ زوال کے بہت بعد ظاہر ہوتا ہے، جو کہ فقہ حنفی کے مطابق مثل ثانی کے اختتام پر ہی ممکن ہے۔
مثل ثانی مکمل ہونے سے قبل عصر کی جماعت کا حکم
مثل ثانی مکمل ہونے سے قبل کسی امام کے پیچھے عصر کی جماعت میں شریک ہونا جائز نہیں۔ اس بارے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانؒ فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں کہ:
اگر مثل ثانی کے بعد جماعت ملنے کی امید ہو، اگرچہ ایک آدمی کے ساتھ ہی ہو، تو اس باطل یا کم از کم مکروہ شدیدہ جماعت میں شریک نہ ہو، بلکہ وقت اجماعی پر اپنی جماعت صحیحہ ادا کرے۔ (2)
ایسی صورت میں جماعت کی نیت کیا ہو؟
اگر کسی کو یقین ہو کہ بعد میں کسی کے ساتھ بھی جماعت نہیں ملے گی تو ضرورتاً صاحبین کے قول پر عمل کرتے ہوئے جماعت میں شریک ہو سکتا ہے، اور پھر مثل ثانی کے بعد تنہا نماز دوبارہ پڑھ لے تاکہ صحت متفق علیہا حاصل ہو سکے۔
فقہی اقتباسات:
- مختصر القدوری: ”ظہر کا آخر وقت دو مثل سایہ کے مکمل ہونے تک ہے۔“
- غنیۃ المتملی: ”عصر اس وقت نہ پڑھی جائے جب تک سایہ دو گنا نہ ہو جائے۔“
لہٰذا واضح ہے کہ فقہ حنفی میں عصر کی نماز مثل ثانی سے پہلے ادا کرنا جائز نہیں، اور اس وقت امام کی اقتداء شرعاً درست نہیں۔