سچ بولنے کی فضائل قرآن پاک اور احادیث کی روشنی میں

Sach bolna

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

وَالصّٰدِقِیۡنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِیۡنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِیۡنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِیۡنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّآئِمِیۡنَ وَالصّٰٓئِمٰتِ وَالْحٰفِظِیۡنَ فُرُوۡجَہُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَ الذَّاکِرِیۡنَ اللہَ کَثِیۡرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللہُ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیۡمًا ﴿۳۵﴾

ترجمۂ کنزالایمان: اور سچے اورسچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجز ی کرنے والے اور عا جزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اور روزے والیاں اوراپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کررکھا ہے۔“
(پ ۲۲ ،سورۃ الاحزاب: ۳۵)

(۱) حضر ت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”سچائی کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ یہ نیکی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں جنت میں ہیں اور جھوٹ سے بچتے رہو کیونکہ یہ گناہ کے ساتھ ہے اور یہ دونوں جہنم میں ہیں ۔“
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،باب الکذب، رقم ۵۷۰۴، ج۷، ص ۴۹۴)

(۲) حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ﷺ نے فرمایا: ”سچ انسان کو بھلائی کی طرف لیجاتااوربھلائی جنت کی طرف لیجاتی ہے انسان سچ بولتا رہتاہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک سچا لکھا جاتاہے اورجھوٹ انسان کو برائی کی طرف لے جاتااوربرائی جہنم کی طرف لے جاتی ہے ، انسان جھوٹ بولتا رہتاہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھا جاتاہے ۔“
(بخاری ، کتاب الادب ، رقم الحدیث ۶۰۹۴،ج۴،ص۱۲۵)

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبان سچ بولنے میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

اپنا تبصرہ بھیجیں