لڈو اگر جوئے کی شرط کے ساتھ کھیلی جائے، تو یہ کھیلنا ناجائز، حرام اور سخت گناہ ہے۔
اور اگر جوئے کے بغیر بھی کھیلی جائے، تب بھی یہ ایک ایسی مشغولیت ہے جس میں وقت اور مال دونوں کا ضیاع ہوتا ہے، اور بلا مقصد وقت گزارنا شریعت میں پسندیدہ نہیں۔
لڈو کھیلنے میں اگر کوئی اور شرعی خرابی نہ بھی ہو، تو یہ خرابی تو کم از کم موجود ہے کہ بغیر کسی دینی یا معتبر دنیاوی فائدے کے، انسان اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہا ہوتا ہے۔
جبکہ مسلمان کا وقت بہت قیمتی ہے، کہ وہ اسی وقت میں ذکر و اذکار، قرآن مجید کی تلاوت یا دیگر نفع بخش کاموں میں مشغول ہو سکتا ہے۔
نیز آج کل لڈو عام طور پر موبائل یا نیٹ کے ذریعے کھیلی جاتی ہے، جس میں:
- مال کا بھی ضیاع ہے (نیٹ پیکجز، موبائل چارجنگ وغیرہ)،
- نماز یا جماعت کے ضائع ہونے کا بھی خطرہ ہوتا ہے،
- بعض اوقات گیم میں موسیقی، فحش تصاویر یا دیگر ناجائز مناظر بھی شامل ہوتے ہیں۔
ایسی صورت میں تو اس کھیل کی ممانعت اور بھی شدید ہو جاتی ہے۔ لہٰذا موبائل پر ہو یا موبائل کے علاوہ، ہر حال میں لڈو کھیلنے کی اجازت نہیں۔
احادیث مبارکہ سے رہنمائی:
ترجمہ: مسلمان آدمی جتنی چیزوں سے کھیلتا ہے وہ سب باطل ہیں، سوائے تین چیزوں کے: کمان سے تیر چلانا، گھوڑے کو ادب سکھانا، اور بیوی سے ملاعبت کرنا، یہ تینوں حق پر ہیں۔ (1)
فقہی رائے:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’ہر کھیل اور عبث فعل جس میں نہ کوئی غرضِ دینی ہو، نہ کوئی جائز دنیوی منفعت، وہ سب مکروہ و بے جا ہیں۔ کوئی کم، کوئی زیادہ۔‘‘ (2)
خلاصہ: لڈو کھیلنا جوا ہو یا بغیر جوئے کے، شریعت میں پسندیدہ عمل نہیں۔ جوا ہونے کی صورت میں حرام اور شدید گناہ، اور بغیر جوئے کے بھی وقت اور مال کا ضیاع ہونے کی وجہ سے ناجائز یا مکروہ ہے۔