کیا سات سے کم افراد شریک ہو سکتے ہیں؟
جی ہاں! سات سے کم افراد بھی ایک بڑے جانور میں شریک ہو سکتے ہیں۔ شریعت نے کم از کم کی کوئی حد مقرر نہیں کی۔ ایک شخص بھی پورا جانور قربان کر سکتا ہے، یا دو، تین، یا چھ افراد بھی اس میں شریک ہو سکتے ہیں۔
فی کس حصہ کتنا ہونا چاہیے؟
ہر شریک کا حصہ کم از کم ساتواں حصہ ہونا لازمی ہے۔ اگر کسی کا حصہ ساتویں سے کم ہوا، تو کسی کی قربانی بھی درست نہ ہو گی۔
البتہ اگر کوئی شخص ساتواں سے زیادہ حصہ رکھنا چاہے تو شرعاً اجازت ہے۔ مثلاً:
- دو افراد مل کر پورے جانور میں شریک ہوں تو فی کس 3.5 حصہ ہوگا، اور قربانی درست ہوگی۔
- اگر ایک شخص آدھے جانور میں شریک ہو اور دوسرا باقی آدھے میں، تو بھی درست ہے۔
فقہی حوالہ
اس بارے میں در مختار میں فرمایا گیا:
ترجمہ: ایک بکری یا بڑے جانور جیسے اونٹ اور گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے اور اگر کسی شریک کا حصہ ساتویں سے کم ہو تو کسی کی طرف سے بھی قربانی جائز نہیں ہوگی۔ اور اگر شرکاء سات سے کم ہوں تو بدرجہ اولیٰ قربانی جائز ہے۔ (1)
نتیجہ
قربانی کے بڑے جانور میں سات افراد شریک ہو سکتے ہیں، اور یہ زیادہ سے زیادہ حد ہے۔ کم افراد بھی شریک ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ہر ایک کا حصہ کم از کم ساتواں ہو۔ ساتواں سے کم حصہ رکھنا کسی کے لیے بھی شرعاً جائز نہیں۔ اس لیے مشترکہ قربانی میں حصے کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
حوالہ جات
| 1↑ | در مختار مع رد المحتار، جلد9، صفحہ 524،525، مطبوعہ کوئٹہ |
|---|