نیکی کی دعوت دینے کی فضیلت اور رب تعالیٰ کافرمان

Neki ki Dawat

سورۂ حم السجدۃ میں ہے :

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَی اللہِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیۡ مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿۳۳﴾

ترجمۂ کنزالایمان :اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں۔“
(پ۲۴،السجدۃ :۳۳)

رحمتِ کونین ﷺ نے فرمایا: ”نیکی کی طرف راہنمائی کرنے والا بھی نیکی کرنے والے کی طرح ہے ۔“
(جامع ترمذی ، رقم ۲۶۷۹،ج۴،ص۳۰۵)

حضرت سیدنا امام محمد غزالی علیہ الرحمۃ نقل فرماتے ہیں کہ حضرت موسی عليه السلام نے بارگاہ ِ الٰہی عزوجل میں عرض کی :”یااللہ عزوجل !جو اپنے بھائی کو بلائے ،اسے نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے تو اس کی جزا کیا ہے ؟“ ارشاد فرمایا،”میں اس کی ہر بات پر ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہوں اور اسے جہنم کی سزا دینے میں مجھے حیاء آتی ہے۔“
(مکاشفۃ القلوب، باب فی الامر والمعروف ،ص۴۸)

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبان نیکی کی دعوت دینے میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

اپنا تبصرہ بھیجیں