زکوٰۃ اور قربانی کے واجب ہونے میں چند اہم فرق ہیں جن کی تفصیل ذیل میں پیش کی جا رہی ہے:
زکوٰۃ کا وجوب اور اس کی شرائط
زکوٰۃ اس صاحب نصاب شخص پر فرض ہوتی ہے جس کے پاس مخصوص قسم کا مال (سونا، چاندی، کرنسی، مالِ تجارت، اور چرائی والے جانور) ہو، اور دیگر شرعی شرائط بھی پوری ہوتی ہوں۔
زکوٰۃ واجب ہونے کی اہم شرائط:
- مسلمان، آزاد، عاقل اور بالغ ہو۔
- بقدر نصاب مال کا مالک ہو (52.5 تولہ چاندی کی قیمت کے برابر)۔
- مال حقیقی یا حکمی قبضے میں ہو اور اس پر قدرت حاصل ہو۔
- مال موجودہ قرض اور حاجتِ اصلیہ (رہنے کا مکان، کپڑے، گھر کا سامان، سواری، پیشہ ورانہ اوزار، ضروری کتابیں، کھانے کا غلہ وغیرہ) سے فارغ ہو۔
- مال نامی ہو (بڑھنے والا یا بڑھنے کی صلاحیت رکھنے والا مال جیسے سونا، چاندی، کرنسی، مالِ تجارت، چرائی والے جانور)۔
- اس مال نصاب پر پورا ایک اسلامی سال گزرا ہو۔
قربانی کا وجوب اور اس کی شرائط
جبکہ قربانی ہر مسلمان، بالغ، مقیم (غیر مسافر) اور صاحب نصاب شخص پر واجب ہوتی ہے۔ اس کے لیے مخصوص قسم کے مال کی شرط نہیں ہے، بلکہ حاجت اصلیہ سے زائد کوئی بھی مال ہو (مثلاً رہنے کے علاوہ زائد مکان، زائد گاڑی، یا کوئی بھی ضرورت سے زائد سامان) تو قربانی واجب ہوگی۔
قربانی واجب ہونے کی شرائط:
- مسلمان ہو۔
- شرعی مسافر نہ ہو۔
- غنی یعنی صاحب نصاب ہو (حاجت اصلیہ کے علاوہ 52.5 تولہ چاندی کی قیمت جتنا مال یا زائد سامان کا مالک ہو)۔
- بالغ ہو۔
- نصاب قرض و دین سے فارغ ہو۔
قربانی کا وقت
قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے بارہویں ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے، یعنی تین دن اور دو راتیں۔ اس تمام وقت میں جس شخص میں یہ مذکورہ بالا شرائط پائی جائیں، اس پر قربانی کرنا واجب ہوگی۔
نتیجہ:
ایک صاحب نصاب (غنی) شخص کے پاس اگرچہ مخصوص زکوٰۃ والا مال (سونا، چاندی، کرنسی، مالِ تجارت، سائمہ جانور) نہ بھی ہو، صرف ضروریاتِ زندگی سے زائد کوئی بھی مال ہو، تو قربانی کے وقت اس پر قربانی کرنا واجب ہوگی۔ جبکہ زکوٰۃ صرف مخصوص مال پر دیگر شرائط کے پائے جانے پر واجب ہوتی ہے۔