حاجی پر قربانی واجب ہونے میں تفصیل یہ ہے کہ حج قِران اور حج تمتع کرنے والے پر حج کی قربانی کرنا واجب ہے اگرچہ وہ فقیر ہوں۔ اور حج افراد کرنے والے پر قربانی کرنا مستحب ہے اگرچہ وہ صاحب نصاب ہو۔
حاجی پر قربانی واجب ہونے کی تفصیل
یاد رہے کہ یہ قربانی وہ نہیں جو عید الاضحیٰ میں ہوا کرتی ہے۔ عید والی قربانی کرنا تو مسافر پر اصلاً واجب نہیں ہے بلکہ مقیم صاحب نصاب پر واجب ہے اگرچہ حج میں ہو، یعنی دورانِ حج بھی عید کی قربانی کرنا اس پر واجب ہوگی اگر وہ وہاں پر مقیم ہو۔
بلکہ حاجی پر حج کی قربانی کرنا حج کا شکرانہ ہے۔ لہٰذا حج اور عید الاضحیٰ کی قربانی دو الگ الگ عبادتیں ہیں، دونوں کے اپنے احکام اور شرائط ہیں۔
عید کی قربانی مقیم، صاحبِ نصاب، بالغ شخص پر واجب ہوتی ہے۔ مسافر اور ایسے شخص پر جو صاحبِ نصاب نہ ہو، عید کی قربانی واجب نہیں ہوتی۔
اس کو یوں مثال سے سمجھیں کہ اگر کوئی شخص حج قِران یا تمتع کر رہا ہو، تو اس پر حج کی قربانی الگ سے واجب ہوگی جو اسے حدود حرم میں کرنا ہوگی، اور اگر وہ صاحب نصاب بھی ہے اور مقیم بھی ہے تو اس پر عید کی قربانی کرنا بھی لازم ہوگی۔ البتہ عید کی قربانی حاجی کو مکہ مکرمہ میں ہی کرنا ضروری نہیں، بلکہ یہ قربانی وہ اپنے وطن میں بھی کروا سکتا ہے، مگر اس میں یہ خیال رکھنا ہوگا کہ دونوں جگہ قربانی کے ایام موجود ہوں، یعنی مکہ مکرمہ میں بھی جہاں خود حاجی موجود ہے اور جس جگہ حاجی کی قربانی ہونی ہے، وہاں بھی قربانی کے ایام ہوں۔
حاجی پر عید کی قربانی واجب ہونے کی شرائط:
حاجی کو کیسے یہ معلوم ہو کہ وہ ایامِ قربانی میں مسافر ہے یا مقیم؟ تو اس کے متعلق اصول یہ ہے کہ:
- اگر حاجی منیٰ جانے سے پہلے مکہ مکرمہ میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ کے لیے ٹھہرا ہو، تو اس پر عید کی قربانی واجب ہوگی (اگر دیگر شرائط بھی پائی جائیں)۔
- یا اگر منیٰ جانے سے پہلے مکہ مکرمہ میں پندرہ دن کے لیے قیام نہ کیا ہو، مگر 12 ذوالحجہ کی رمی کے بعد غروب آفتاب سے پہلے پہلے وہ مقیم ہو جائے، اس طرح کہ غروب آفتاب سے پہلے پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت سے وہ عزیزیہ یا مکہ مکرمہ آ جائے، تو اس صورت میں بھی حاجی ایامِ قربانی میں مقیم کہلائے گا، اور قربانی کی شرائط پائے جانے کی صورت میں اس پر عید کی قربانی واجب ہوگی۔
- لیکن اگر حاجی نے نہ تو منیٰ جانے سے پہلے مکہ مکرمہ میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کیا ہو اور نہ ہی وہ 12 ذوالحجہ کی غروب آفتاب سے پہلے پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت سے عزیزیہ یا مکہ مکرمہ آئے، تو ایسی صورت میں حاجی ایامِ قربانی میں **مقیم نہیں کہلائے گا، بلکہ مسافر ہو گا** اور اس پر عید کی قربانی واجب نہیں ہوگی۔ ہاں اگر نفلی قربانی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، اس پر اسے ثواب حاصل ہوگا۔