حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بقرعید کے دن سب سے محبوب عمل اللہ کے نزدیک خون بہانا ہے، اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے، لہٰذا خوش دلی سے قربانی کرو۔ (1)
قربانی کا پس منظر
قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت ہے، جسے امت محمدیہ ﷺ کے لیے باقی رکھا گیا۔ نبی کریم ﷺ کو اس کا حکم قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا:
ترجمہ: اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ (الکوثر: 2)
قربانی کی ابتدا اُس وقت ہوئی جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا ارادہ کیا۔ ان دونوں کی رضا و تسلیم پر اللہ نے ان کی قربانی قبول فرمائی اور ایک عظیم دنبہ نازل فرمایا:
ترجمہ کنز الایمان: اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچا لیا۔ (الصٰفٰت: 107)
قربانی کی عالمگیر سنت
قربانی کسی ایک امت تک محدود نہ رہی بلکہ اللہ نے ہر امت کے لیے اس کو عبادت بنایا:
ترجمہ: اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی تاکہ وہ اللہ کا نام لیں ان بے زبان جانوروں پر جو اس نے انہیں عطا کیے۔ (الحج: 34)
قربانی کی حکمتیں
قربانی صرف عبادت ہی نہیں، بلکہ اس کے اندر کئی معاشرتی اور معاشی حکمتیں بھی پوشیدہ ہیں:
- روزگار کے مواقع: لاکھوں افراد کو مویشی پالنے، بیچنے، چارہ فراہم کرنے، ذبح کرنے، کھال سنبھالنے وغیرہ سے روزگار حاصل ہوتا ہے۔
- ملکی معیشت کو فائدہ: کھالوں کی فروخت اور ان سے مصنوعات تیار کر کے برآمد کرنے سے ملک کو قیمتی زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے۔
- غریبوں کا فائدہ: قربانی کے ذریعے بہت سے غریبوں کو سال میں پہلی بار گوشت نصیب ہوتا ہے۔
- صحت بخش گوشت: شرعی اصولوں کے مطابق ذبح کیا گیا جانور صاف ستھرا اور طبی لحاظ سے مفید ہوتا ہے۔
- ماحولیاتی فائدہ: قربانی سے غیر ضروری جانوروں کی تعداد کم ہو جاتی ہے، جس سے ماحولیاتی آلودگی کم ہوتی ہے۔
خلاصہ
قربانی محض رسم نہیں بلکہ عظیم عبادت اور پیغامِ اطاعت ہے۔ یہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی سنت، نبی کریم ﷺ کا عمل اور شریعت اسلامیہ کا روشن باب ہے۔ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کو چاہیے کہ خوش دلی، ایمان، اخلاص اور سچی نیت کے ساتھ اس عبادت کو ادا کرے تاکہ قربانی کے دینی و دنیاوی ثمرات سے بہرہ مند ہو سکے۔
حوالہ جات
| 1↑ | جامع ترمذی، حدیث 1493 |
|---|