سونے جاگنے کی سنتیں اور آداب

سونے جاگنے کی سنتیں اور آداب

نیند بھی ایک طر ح کی موت ہے۔ جب بھی ہم سونے لگیں تو ہمیں ڈرجانا چاہيے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آنکھ ہی نہ کھلے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہی سوتے نہ رہ جائیں ۔ لہٰذا روزانہ سونے سے پہلے بھی اپنے گناہوں سے توبہ کر لینی چاہے۔پیارے اور محترم مسلمان بھائیو! اگر ہم سنت کے مطابق دعائیں وغیرہ پڑھ کر سوئیں تو ان شاء اللہ عزوجل ہمیں سونے کا بھی کچھ نہ کچھ فائدہ حاصل ہو ہی جائے گا۔

اب سونے اور جاگنے کے بارے میں سنتیں اورآداب وغیرہ بیان کی جاتی ہیں:

  1.  سونے سے پہلے بسم اللہ شریف پڑھ کر بستر کو تین بار جھاڑ لیں تاکہ کوئی موذی شے یا کیڑا وغیرہ ہو تو نکل جائے ۔
  2.  سونے سے پہلے یہ دعا پڑھ لینا سنت ہے ۔
    اَ للّٰھُمَّ بِاِسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیٰ

    ترجمہ: اے اللہ عزوجل ! میں تیرے نام کے ساتھ ہی مرتا ہوں اور جیتا ہوں (یعنی سوتا اور جاگتا ہوں)
    (صحیح البخاری ،کتاب الدعوات،باب مایقول اذانام ،الحدیث ۶۳۱۲،ج۴،ص۱۹۲)
  3. الٹا یعنی پیٹ کے بل نہ سوئیں ۔حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ایک شخص کو پیٹ کے بل لیٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا:”اس طرح لیٹنے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا۔“
    (سنن ابن ماجہ ،کتاب الادب ،باب النھی عن الاضطجاع علی الوجہ ،الحدیث ۳۷۲۳،ج۴،ص۲۱۴)
  4. دائیں کر وٹ لیٹنا سنت ہے۔ حضور تاجدار مدینہ ﷺ جب اپنی خواب گاہ پر تشریف لے جاتے تو اپناسیدھا ہاتھ مبارک سیدھے رخسار شریف کے نیچے رکھ کر لیٹتے ۔
    ( شمائل الترمذی ،کتاب الشمائل ،باب ماجاء فی صفۃ نوم رسول اللہ ﷺ ، ا لحد یث ۳ ۵ ۲ ، ج ۵ ، ص ۵۴۹)
  5. قرآن مجید کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی طرف پیٹھ نہ کی جائے نہ پاؤں پھیلائے جائیں، نہ پاؤں کو اس سے اونچا کریں، نہ یہ کہ خود اونچی جگہ پر ہو اور قرآن مجید نیچے ہو۔
    (بہار شریعت،حصہ ۱۶،ص۱۱۹)
    ہاں اگر قرآن پاک اور مقدس طغرے وغیرہ اونچی جگہ ہوں تو اس سمت پاؤں کرنے میں مضایقہ نہیں
    (الفتاویٰ الھنديہ،ج۵،ص۳۲۲)۔
  6. کبھی چٹائی پر سوئیں تو کبھی بستر پر کبھی فرشِ زمین پر ہی سوجائیں ۔
  7. جاگنے کے بعد یہ دعا پڑھیں:
    ”اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَااَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ

    ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ عزوجل کے لئے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“
    (صحیح البخاری ،کتاب الدعوات،باب مایقول اذانام ،الحدیث ۶۳۱۲،ج۴،ص۱۹۲)

اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل!ہمیں کم سونے اور سنت کے مطابق سونے کی توفیق مرحمت فرما ۔” آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

اپنا تبصرہ بھیجیں