356اولیائے کرام اور ابدال

Abdal

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، سرکار مدینہ ﷺ نے فرمایا ، ” اللہ کے تین سو بندے روئے زمین پر ایسے ہیں کہ ان کے دل حضرت آدم صفی اللہ علیہ السلام کے قلب اطہر پر ہيں۔ اور چالیس کے دل حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے قلب اطہر پر ہيں۔ اور سات کے دل حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے قلب اطہر پر ہيں اور پانچ کے دل حضرت جبرائیل علیہ السلام کے قلب اطہر پر ہيں۔ اور تین کے دل حضرت میکائیل علیہ السلام کے قلب اطہر پر ہيں۔ ایک ان میں ایسا ہے جس کا دل حضرت اسرافیل علیہ السلام کے قلب اطہر پر ہے۔

جب ان میں”ایک” وفات پاتا ہے تو اللہ اس کی جگہ “تین” میں سے ایک کو مقرر فرماتا ہے اور اگر” تین” میں سے کوئی ایک وفات پاتا ہے تو اللہ اس کی جگہ “پانچ “میں سے ایک کو اور اگر”پانچ ” میں سے کوئی ایک وفات پاتا ہے تو اللہ اس کی جگہ”سات” میں سے ایک کو اور اگر ان “سات” میں کا کوئی ایک وفات پاتا ہے تو اللہ اس کی جگہ”چالیس “میں سے ایک کو اور اگر ان “چالیس” حضرات میں سے کوئی ایک وفات پاتا ہے تو اللہ ان کی جگہ”تین سو” میں سے ایک کو اور اگر ان “تین سو” میں سے کوئی ایک وفات پاتا ہے تو اللہ اس کی جگہ عام لوگوں میں سے کسی کو مقرر فرماتا ہے۔

ان کے ذریعے(1)وسیلےسے زندگی اور موت ملتی، بارِش برستی،کھیتی اگتی اور بلائیں دور ہوتی ہیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سےاستفسار کیا گیا،”ان کے ذریعے کیسے زندگی اور موت ملتی ہے؟”فرمایا،”وہ اللہ سے امت کی کثرت کا سوال کرتے ہیں توامت کثیر ہو جاتی ہے اور ظالموں کے لیے بد دعا کرتے ہیں تو ان کی طاقت توڑ دی جاتی ہے ، وہ دعا کرتے ہیں تو بارش برسائی جاتی ، زمین لوگوں کے لیے کھیتی اگاتی ہے ، لوگوں سے مختلف قسم کی بلائیں ٹال دی جاتی ہیں۔ (2)حلیۃالاولیاء ج۱ ص ۴۰حدیث ۱۶

ابدال

حضرت امام محمد بن علی حکیم ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، بے شک انبیاء علیہم السلام زمین کے اوتاد تھے جب سلسلہ ء نبوت ختم ہوا تو اللہ نے امت احمد ﷺ میں سے ایک قوم کو ان کا نائب بنایا جنہیں ابدال کہتے ہیں، وہ حضرات(3)فقطروزہ و نماز اور تسبیح وتقدیس میں کثرت کی وجہ سے لوگوں سے افضل نہیں ہوئے بلکہ اپنے حسن اخلاق، ورع و تقویٰ کی سچائی ، نیت کی اچھائی ، تمام مسلمانوں سے اپنے سینے کی سلامتی ، اللہ پاک کی رضا کے لیے حلم ،صبر اور دانشمندی ، بغیر کمزوری کے عاجزی اور تمام مسلمانوں کی خیر خواہی کی وجہ سے افضل ہو ئے ہیں۔

پس وہ انبیاء علیہم السلام کے نائب ہیں۔ وہ ایسی قوم ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنی ذات پاک کے لئے منتخب اور اپنے علم اور رضا کے لئے خاص کر لیا ہے ۔ وہ 40 صدیق ہیں، جن میں سے 30 رحمٰن عزوجل کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یقین کی مثل ہیں۔ ان کے ذریعے(4)وسیلےسے اہل زمین سے بلائیں اور لوگوں سے مصیبتیں دور ہوتی ہیں ان کے ذریعے سے ہی بارِش ہوتی اور رزق دیا جاتا ہے ان میں سے کوئی اسی وقت فوت ہوتا ہے جب اللہ اس کی جانشینی کیلئے کسی کو پروانہ دے چکا ہوتا ہے۔

وہ کسی پر لعنت نہیں بھیجتے، اپنے ماتحتوں کو اذیت نہیں دیتے ، ان پر دست درازی نہیں کرتے، انہیں حقیر نہیں جانتے ، خود پر فوقیت رکھنے والوں سے حسد نہیں کرتے، دنیا کی حرِص نہیں کرتے ، دکھاوے کی خاموشی اختیار نہیں کرتے ، تکبر نہیں کرتے اور دکھاوے کی عاجزی بھی نہیں کرتے ۔

نہ جدا ہونے والی صفت

وہ بات کرنے میں تمام لوگوں سے اچھے اور نفس کے اعتبار سے زیادہ پرہیزگار ہیں، سخاوت ان کی فطرت میں شامل ہے، اسلاف نے جن(5)نامناسب چیزوں کو چھوڑا ان سے محفوظ رہنا ان کی صفت ہے ان کی یہ صفت جدا نہیں ہوتی کہ آج خشیت کی حالت میں ہوں اور کل غفلت میں پڑے ہوں بلکہ وہ اپنے حال پر ہمیشگی اختِیا ر کرتے ہیں، وہ اپنے اور اپنے رب عزوجل کے درمیان ایک خاص تعلق رکھتے ہیں ، انھیں آندھی والی ہوا اور بے باک گھوڑے نہیں پہنچ سکتے، ان کے دل اللہ پاک کی خوشی(6)رِضااور شوق میں آسمان کی طرف بلند ہوتے ہیں پھر(پارہ اٹھائیسواں سورۃ المجادلۃ کی) آیت(نمبر ۲۲) تلاوت فرمائی

اُولٰٓئِکَ حِزْبُ اللہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿۲۲﴾

ترجمہ: “یہ اللہ عزوجل کی جماعت ہے، سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے “

راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی:”اے ابو درداء رضی اللہ عنہ! جو کچھ آپ نے بیان فرمایا اس میں کون سی بات مجھ پر بھاری ہے؟ مجھے کیسے معلوم ہوگا کہ میں نے اسے پا لیا ؟”فرمایا:”آپ اس کے درمیانے درجے میں اس وقت پہنچیں گے جب دنیا سے بغض رکھیں گے اور جب دنیا سے بغض رکھیں گے تو آخرت کی محبت اپنے قریب پائیں گے اور آپ جتنا دنیا سے زہد(7)بے رغبتیاختیا ر کریں گے اتنا ہی آپ کو آخرت سے محبت ہو گی اور جتنا آپ آخرت سے محبت کریں گے اتنا ہی اپنے نفع اور نقصان والی چیزوں کو دیکھیں گے ۔

مزید فرمایا جس بندے کی سچی طلب علم الہٰی ميں ہوتی ہے اس کو قول و فعل کی درستی عطا فرما دیتا اور اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے۔ اس کی تصدیق اللہ پاک کی کتاب(8)قرآن مجید میں موجود ہے پھر پارہ چودھواں سورۃ ا لنحل کی یہ آیت (9)نمبر ۱۲۸تلاوت فرما ئی :۔

اِنَّ اللہَ مَعَ الَّذِینَ اتَّقَوا وَّالَّذِینَ ہُم مُّحْسِنُونَ ﴿۱۲۸﴾

ترجمہ: “بے شک اللہ ان کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیا ں کرتے ہیں ۔” (10)پ ۱۴ النحل ۱۲۸

(مزید فرمایا)جب ہم نے اس(11)قرآنِ مجید میں دیکھا تو یہ پایا کہ اللہ پاک کی محبت اور اس کی رِضا کی طلب سے زیادہ لذت کسی شے میں حاصل نہیں ہوتی (12)نوادرالاصول للحکیم الترمذی ص۶۸ا
اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔

حوالہ جات   [ + ]

اپنا تبصرہ بھیجیں